المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
74. لا يغلق الرهن له غنمه وعليه غرمه
گروی رکھی ہوئی چیز بند نہیں ہوتی، اس کا نفع مالک کا ہے اور اس کا نقصان بھی اسی پر ہے۔
حدیث نمبر: 2354
حدثنا أبو أحمد إسحاق بن محمد بن خالد الهاشمي بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا حنظلة بن أبي سفيان، قال: سمعت سالم بن عبد الله يحدِّث عن ابن عمر، عن النبي ﷺ قال:"مَن وَهَبَ هِبةً، فهو أحقُّ بها، ما لم يُثَبْ مِنها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، إلّا أن يكون الحَمْلُ فيه على شَيخِنا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2323 - على شرطهما إلا أن نكل الحمل فيه على شيخنا
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، إلّا أن يكون الحَمْلُ فيه على شَيخِنا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2323 - على شرطهما إلا أن نكل الحمل فيه على شيخنا
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ہبہ کرے وہی اس کا زیادہ حقدار ہے جب تک کہ وہ وہاں سے اُٹھ نہ جائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ مگر اس کو روایت کرنا ہمارے مشائخ کے لیے بہت مشکل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2354]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2354 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله لا بأس بهم، إلّا أنَّ عُبيد الله بن موسى قد غلط في إسناده كما قال البيهقي في "معرفة السنن والآثار" (12380)، وذلك لأنَّه جعله عن عبد الله بن عمر بن الخطاب مرفوعًا، وإنما هو عن عبد الله بن عمر عن أبيه عمر بن الخطاب من قوله غير مرفوع، وهذا الذي جزم به الدارقطني والبيهقي وابن عبد الهادي، وقال البخاري في "تاريخه" 1/ 271: هذا أصحُّ.
🔍 فنی نکتہ / علّت: عبید اللہ بن موسیٰ نے اسے مرفوع بیان کر کے غلطی کی ہے، جبکہ یہ دراصل حضرت عمر کا قول (موقوف) ہے۔ امام بخاری، دارقطنی اور بیہقی نے اس کے موقوف ہونے کو ہی اصح قرار دیا ہے۔
وخالفهم جماعة فصححوه مرفوعًا، منهم غيرُ المصنف: ابنُ حزم وابنُ القطّان الفاسي وابنُ التركماني.
⚖️ درجۂ حدیث: مصنف کے علاوہ ابن حزم، ابن القطان اور ابن الترکمانی نے اسے مرفوعاً صحیح قرار دیا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" (180) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام بیہقی نے "السنن الکبریٰ" (180) میں حاکم کی سند سے اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الدارقطني في "السنن" (2969)، وفي "العلل" (108)، ومن طريقه ابن الجوزي في "التحقيق" (1628) عن أبي علي إسماعيل بن محمد الصفار، عن علي بن سهل بن المغيرة، عن عبيد الله بن موسى، به.
📖 حوالہ / مصدر: دارقطنی نے "سنن" (2969) اور "علل" (108) میں اور ابن الجوزی نے "التحقیق" (1628) میں عبید اللہ بن موسیٰ کے طریق سے اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه سحنون في "المدونة" 4/ 414، والبيهقي 6/ 181 من طريق عبد الله بن وهب، والطحاوي في "شرح معاني الآثار" 4/ 81 من طريق مكي بن إبراهيم، كلاهما عن حنظلة بن أبي سفيان، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن أبيه، عن جده موقوفًا عليه.
📖 حوالہ / مصدر: سحنون نے "المدونہ" (4/ 414)، بیہقی (6/ 181) اور طحاوی (4/ 81) نے اسے حضرت عمر فاروق سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابنُ حزم 9/ 128، والبيهقي 6/ 181، من طريق سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن سالم، عن أبيه، عن جده عمر بن الخطاب قال: من وَهَبَ هبةً فلم يُثَب فهو أحقُّ بهبته إلّا لذي رحمٍ.
📖 حوالہ / مصدر: ابن حزم (9/ 128) اور بیہقی (6/ 181) نے سفیان بن عیینہ (سفیان بن عیینہ بن ابی عمران) کے طریق سے حضرت عمر کا قول نقل کیا ہے کہ ہبہ کرنے والا اپنے ہبے کا زیادہ حقدار ہے جب تک اسے بدلہ نہ دیا جائے، سوائے ذی رحم کے۔
وأخرج ابن أبي شيبة 6/ 474، وابن ماجه (2387)، والدارقطني (2970) من طريق وكيع بن الجراح، والدارقطني (2972)، والبيهقي 6/ 181 من طريق عُبيد الله بن موسى، والدارقطني (2971) من طريق جعفر بن عون، ثلاثتهم عن إبراهيم بن إسماعيل بن مُجمِّع، عن عمرو بن دينار، عن أبي هريرة رفعه. كذا خالف فيه إبراهيمُ بنُ إسماعيل الثقةَ الحافظَ سفيانَ بنَ عيينة! فالقول ما قال سفيان.
🔍 فنی نکتہ / علّت: وکیع بن جراح اور دیگر نے اسے مرفوعاً ابوہریرہ سے روایت کیا ہے، مگر ابراہیم بن اسماعیل نے ثقہ حافظ سفیان بن عیینہ کی مخالفت کی ہے، اس لیے سفیان کا قول (موقوف ہونا) ہی معتبر ہے۔
وقد روي عن عمر بن الخطاب من عدة وجوه صحاح تخصيص عُموم ما ورد في رواية حنظلة بن أبي سفيان، ومن ذلك رواية عمرو بن دينار عن سالم بن عبد الله بن عمر التي قدمناها، ففيها قال عمر بن الخطاب: إلّا لذي رحمٍ.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: حضرت عمر سے کئی صحیح اسناد سے حنظلہ کی روایت کے عموم کی تخصیص ثابت ہے، جیسے سالم بن عبداللہ کی روایت جس میں "سوائے ذی رحم کے" کے الفاظ موجود ہیں۔
ويُوضِّحه ما رواه الأسود بن يزيد النخعي عن عمر بن الخطاب، قال: من وهب هبةً لذي رحمٍ، ¤ ¤ فهي جائزة، ومن وهب هبةً لغير ذي رحم فهو أحق بها، ما لم يُثَب منها. أخرجه ابن أبي شيبة 6/ 472، وابن المنذر في "الأوسط" (8839)، والطحاوي 4/ 81.
🧾 تفصیلِ روایت: اسود بن یزید نے حضرت عمر سے روایت کیا کہ ذی رحم کے لیے ہبہ جائز (لازم) ہے، جبکہ غیر ذی رحم سے ہبہ واپس لیا جا سکتا ہے اگر بدلہ نہ ملا ہو۔ اسے ابن ابی شیبہ (6/ 472) اور طحاوی نے روایت کیا ہے۔
ونحوه عن أبي غطفان بن طريف، عن مروان بن الحكم، عن عمر، قال: من وهب هبة لصلة رحم أو على وجه الصدقة، فإنه لا يرجع فيها، ومن وهب هبة يُرى أنه إنما أراد بها الثواب، فهو على هبته يرجع فيها إن لم يُرْضَ منها. أخرجه مالك في "الموطأ" برواية أبي مصعب (2947)، ورواية محمد بن الحسن (805)، ورواية سويد بن سعيد (294)، وكذلك رواه الشافعي في "الأم" 8/ 644 عن مالك، وكذلك رواه ابن وهب عن مالك عند الطحاوي 4/ 81، والبيهقي 6/ 182، وكذلك يحيى القطان رواه عن مالك عند مُسدَّد في "مسنده" كما في "المطالب العالية" (1492). وإنما عدّدنا طرقه عن مالك لأنَّ يحيى الليثي أسقط من روايته 2/ 754 ذكر مروان بن الحكم، فانقطع الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: مروان بن حکم کی روایت امام مالک نے "موطا" (رقم 2947، 805 وغیرہ) میں اور امام شافعی نے "الام" (8/ 644) میں نقل کی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یحییٰ لیثی کی روایت میں مروان کا نام گر جانے کی وجہ سے وہ منقطع ہو گئی ہے، جبکہ دیگر تمام رواۃ کے ہاں یہ متصل ہے۔
وروى نحو ذلك أيضًا سعيد بن المسيب عن عمر - ومرسَلُه عن عمر بن الخطاب حجة كما ذهب إليه الجهابذة من المحدثين وعدُّوه كالموصول - قال: من وهب هبةً يرجو ثوابها فهي ردٌّ على صاحبها أو يُثاب عليها، ومن أعطى في حقٍّ أو قرابةٍ أجزنا عطيّته. أخرجه عبد الرزاق (16519) وابن المنذر في "الأوسط" (8838).
⚖️ درجۂ حدیث: سعید بن مسیب کا حضرت عمر سے مرسل روایت کرنا محدثین کے نزدیک "حجت" ہے اور اسے موصول کے درجے میں مانا جاتا ہے۔ اسے عبدالرزاق (16519) نے روایت کیا ہے۔
فيُحمل ما ورد في عموم رواية حنظلة في قول عمر على ما خُصِّص به في الروايات الأخرى الصحيحة عنه، ولا يُعارَض بذلك عندئذٍ مذهبُه مع ما ثبت من نهي النبي ﷺ عن الرجوع في الهبة وتمثيله ذلك بالكلب يقيء ثم يعود في قيئه، مما رواه غير واحدٍ من الصحابة، كحديث ابن عباس عند البخاري (2589) ومسلم (1622)، والله أعلم بالصواب.
📌 اہم نکتہ: حضرت عمر کے عمومی قول کو دیگر صحیح روایات کی روشنی میں مخصوص سمجھا جائے گا، تاکہ یہ نبی ﷺ کی ان احادیث سے نہ ٹکرائے جن میں ہبہ واپس لینے کی ممانعت ہے (جیسے کتے کی قے والی مثال، بخاری: 2589)۔ واللہ اعلم بالصواب۔