🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
79. من فرق بين والدة وولدها فرق الله بينه وبين أحبته يوم القيامة
جس نے ماں اور اس کے بچے کو جدا کیا اللہ قیامت کے دن اسے اس کے پیاروں سے جدا کر دے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2362
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل، من أصل كتابه غيرَ مرة، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا شعبة، عن الحَكَم، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن عليّ، قال: قدم على النبي ﷺ سَبْيٌ، فأمرني ببيع أخوَين، فبعتُهما وفَرّقتُ بينهما، ثم أتيتُ النبي ﷺ فأخبرتُه، فقال:"أدرِكْهُما فارتجِعهما، وبِعْهُما جميعًا ولا تُفرّقْ بينَهما" (1)
هذا حديث غريب (1) صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد قيل: عن الحَكَم عن ميمون بن أبي شَبِيب عن علي، وهو صحيح أيضًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2331 - على شرط البخاري ومسلم غريب
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قیدی آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو بھائی بیچنے کا حکم دیا میں نے ان دونوں کو بیچ دیا اور الگ الگ کر کے بیچا پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو ڈھونڈو اور واپس لو اور اکٹھا بیچو اور ان کو جدا نہ کرو۔ ٭٭ یہ حدیث غریب ہے، اور یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور اس کی سند حکم کے بعد میمون بن ابی شبیب کے واسطے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک پہنچتی ہے اور یہ بھی صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2362]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2362 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
والصحيح في رواية ميمون بن أبي شبيب عن علي ما رواه يزيد بن عبد الرحمن الدالاني عن الحكم، بلفظ مغاير، كما سيأتي في الرواية التالية.
📌 اہم نکتہ: میمون کی حضرت علی سے روایت میں صحیح لفظ وہ ہے جو یزید الدالانی نے روایت کیا ہے (جو اگلی روایت میں آرہا ہے)۔
وسيتكرر هذا الحديث برقم (2606).
📝 نوٹ / توضیح: یہ حدیث دوبارہ رقم (2606) پر آئے گی۔
(1) لفظة "غريب" ليست في (ز).
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "غریب" نسخہ (ز) میں موجود نہیں ہے۔
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات لكنه اختُلف فيه على عبد الوهاب بن عطاء، فرواه يحيى بن أبي طالب وإسماعيل بن أبي الحارث البغدادي ومحمد بن الوليد الفحام وعلي بن سهل البغدادي ومحمد بن الجهم السِّمَّري، كلهم عن عبد الوهاب، عن شعبة، عن الحكم: وهو ابن عُتيبة.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "حدیث صحیح" ہے؛ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں لیکن عبدالوہاب بن عطا پر اس کی سند میں اختلاف ہوا ہے۔ یحییٰ بن ابی طالب اور دیگر نے اسے "شعبہ عن الحکم" (حکم بن عتیبہ) کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وخالفهم أحمد بن حنبل والحسن بن محمد الزعفراني، فروياه عن عبد الوهاب عن سعيد بن أبي عَروبة، فذكرا سعيد بن أبي عروبة بدل شعبة، لكن زاد أحمد في روايته بين سعيد والحكم رجلًا مبهمًا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام احمد بن حنبل اور زعفرانی نے "شعبہ" کے بجائے "سعید بن ابی عروبہ" کا ذکر کیا ہے، تاہم امام احمد نے سعید اور حکم کے درمیان ایک مبہم آدمی کا اضافہ کیا ہے۔
وقد رواه محمد بن جعفر، عن سعيد بن أبي عروبة، عن الحكم، فوافق رواية الزعفراني عن عبد الوهاب.
🧩 متابعات و شواہد: محمد بن جعفر نے سعید بن ابی عروبہ سے بغیر واسطے کے روایت کیا ہے، جو زعفرانی کی روایت کے موافق ہے۔
ورواه محمد بن سواء، عن ابن أبي عروبة، عن رجل، عن الحكم، فوافق رواية أحمد عن عبد الوهاب، فالظاهر أنَّ الحديث محفوظ عن شعبة وسعيد بن أبي عروبة، لكن الصحيح في رواية ابن أبي عَروبة زيادة رجل بينه وبين الحكم، كما وقع في رواية أحمد بن حنبل ومحمد بن سواء، ويؤيده أنَّ سعيدًا لم يسمع من الحكم فيما قاله أبو حاتم والنسائي وغيرهما، فالاعتماد في هذا الحديث على رواية شعبة دون رواية ابن أبي عَروبة، كما قال ابن القطان الفاسي في "بيان الوهم والإيهام" 5/ 396، ووافقه ابن الملقِّن في "البدر المنير" 6/ 523.
📌 اہم نکتہ: محمد بن سواء کی روایت امام احمد کے موافق ہے جس میں واسطہ موجود ہے۔ چونکہ سعید بن ابی عروبہ کا سماع حکم سے ثابت نہیں ہے، اس لیے صحیح یہ ہے کہ واسطہ موجود تھا، لہذا اس حدیث میں اصل اعتماد "شعبہ" کی روایت پر ہے (جیسا کہ ابن القطان اور ابن الملقن کا قول ہے)۔
وقد وافق شعبةَ على روايته زيدُ بنُ أبي أُنيسة، فرواه عن الحكم، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن علي بن أبي طالب. وقوّى إسناده ابنُ عبد الهادي في "التنقيح" 4/ 97، وجوَّده ابن الملقن في "البدر المنير". ¤ ¤ وخالف شعبةَ وابنَ أبي عَروبة وزيدَ بنَ أبي أُنيسة فيه الحجاجُ بنُ أرطاة، فرواه عن الحكم، عن ميمون بن أبي شبيب، عن علي بن أبي طالب. والحجاج فيه ضعف، وهو مدلس وعنعنه.
⚖️ درجۂ حدیث: زید بن ابی انیسہ نے شعبہ کی متابعت کی ہے، جس کی سند کو ابن عبد الہادی نے قوی اور ابن الملقن نے جید قرار دیا ہے۔ حجاج بن ارطاہ نے ان کی مخالفت کی ہے مگر وہ ضعیف اور مدلس ہے۔
وخالف الحجاجَ في متنه يزيدُ بنُ عبد الرحمن الدالاني كما سيأتي بعده، فرواه عن الحكم، عن ميمون بن أبي شَبيب، عن علي بن أبي طالب: أنه فرّق بين جارية وولدها، فنهاه النبي ﷺ عن ذلك. ويزيد الدالاني أقوى من الحجاج بن أرطاة وأوثق، فهذا هو المحفوظ في رواية ميمون بن أبي شبيب، كما أشار إليه البيهقيُّ 9/ 127، وابنُ عبد الهادي في "التنقيح" 4/ 99. فتحصل من ذلك أنهما حديثان عن علي بن أبي طالب: أحدهما من رواية الحكم عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عنه في قصة التفريق بين الأخوين، والآخر من رواية الحكم عن ميمون بن أبي شَبيب عن علي بن أبي طالب في قصة التفريق بين جارية وولدها.
📌 اہم نکتہ: یزید الدالانی، حجاج سے زیادہ قوی ہیں؛ ان کے مطابق حضرت علی نے لونڈی اور اس کے بچے کے درمیان جدائی کی تھی جس سے نبی ﷺ نے منع فرمایا۔ بیہقی اور ابن عبد الہادی کے مطابق یہ دو الگ الگ حدیثیں ہیں: ایک بھائیوں کے درمیان تفریق اور دوسری ماں اور بچے کے درمیان تفریق سے متعلق۔
وهذا ما يفيده كلام المصنف حيث جعلهما متنَين مختلفين، وكذلك هو معنى كلام البيهقي حين فاضل بين رواية الحجاج بن أرطاة ورواية أبي خالد الدالاني، وهو ظاهر صنيع المزي في "الأطراف"، ووافقه ابن التركماني في "الجوهر النقي" 9/ 127.
📝 نوٹ / توضیح: مصنف، امام بیہقی اور امام مزی نے ان دونوں کو الگ الگ متن قرار دیا ہے، اور ابن الترکمانی نے بھی اسی کی موافقت کی ہے۔
وقال الدارقطني في "العلل" (401): لا يمتنع أن يكون الحكم سمعه منهما جميعًا، فرواه مرة عن هذا، ومرة عن هذا، والله أعلم.
📝 نوٹ / توضیح: امام دارقطنی کا خیال ہے کہ ممکن ہے امام حکم (حکم بن عتیبہ) نے یہ روایت دونوں اساتذہ (عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اور میمون بن ابی شبیب) سے سنی ہو۔
قلنا: لكن ميمونًا لم يسمع عليًا، كما قال أبو حاتم وأبو داود وابن خِراش.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہم کہتے ہیں کہ میمون بن ابی شبیب کا حضرت علی سے سماع ثابت نہیں ہے جیسا کہ ابو حاتم، ابوداؤد اور ابن خراش نے صراحت کی ہے۔
وأخرجه الضياء في "المختارة" 2/ (652) من طريق خيثمة بن سليمان، عن يحيى بن أبي طالب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: ضیاء مقدسی نے "المختارہ" (2/ 652) میں خيثمہ بن سلیمان کے طریق سے اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الدارقطني في "السنن" (3040)، وفي "العلل" (401) من طريق إسماعيل بن أبي الحارث، والدارقطني في "العلل" (401) من طريق محمد بن الوليد الفحام، والبيهقي 9/ 127 من طريق محمد بن الجهم السِّمَّري، ثلاثتهم عن عبد الوهاب، به. وذكر الدارقطني أنَّ علي بن سهل البغدادي قد رواه عن عبد الوهاب كذلك.
📖 حوالہ / مصدر: دارقطنی نے "سنن" (3040) اور "علل" (401) میں، اور بیہقی (9/ 127) نے محمد بن جہم کے طریق سے اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو علي الحسن بن علي الطوسي في "مختصر الأحكام" (1191)، والبيهقي 9/ 127 من طريق الحسن بن محمد الزعفراني، عن عبد الوهاب بن عطاء، عن سعيد بن أبي عروبة، عن الحكم، به. فذكر سعيدًا بدل شعبة.
📖 حوالہ / مصدر: ابو علی طوسی نے "مختصر الاحکام" (1191) اور بیہقی نے زعفرانی کے طریق سے سعید بن ابی عروبہ کے واسطے سے اسے نقل کیا ہے۔
وكذلك أخرجه أحمد 2/ (1045) عن عبد الوهاب، عن سعيد بن أبي عروبة، لكنه زاد: عن رجل عن الحكم.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد (2/ 1045) نے بھی اسے روایت کیا ہے مگر اس میں "سعید" اور "حکم" کے درمیان ایک مبہم آدمی کا اضافہ کیا ہے۔
وقد رواه محمد بن جعفر عند أحمد 2/ (760) عن سعيد بن أبي عروبة، عن الحكم، فلم يذكر الواسطة، فوافق رواية الزعفراني عند عبد الوهاب بن عطاء. ¤ ¤ ورواه محمد بن سواء، عن سعيد بن أبي عروبة، عن رجل، عن الحكم، فذكر الواسطة، فوافق رواية أحمد بن عبد الوهاب بن عطاء. ورواية محمد بن سواء هذه عند إسحاق بن راهويه في "مسنده" كما في "نصب الراية" للزيلعي 4/ 26، وعند البيهقي في "السنن الكبرى" 9/ 127. والصحيح روايةُ من زاد الواسطة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن جعفر نے بغیر واسطے کے جبکہ محمد بن سواء نے واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اسحاق بن راہویہ اور بیہقی کی روایات کے مطابق واسطے والی روایت (جس میں راوی کا اضافہ ہے) ہی زیادہ صحیح ہے۔
وأخرجه ابن الجارود (575)، والضياء (653) من طريق زيد بن أبي أُنيسة، عن الحكم، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن الجارود (575) اور ضیاء مقدسی (653) نے زید بن ابی انیسہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وخالفهم الحجاج بن أرطاة في إسناده ومتنه، فرواه عن الحكم عن ميمون بن أبي شبيب، عن علي، فذكر ميمونًا بدل عبد الرحمن بن أبي ليلى، وهو خطأ في هذا الحديث. وقد أخرجه من طريقه أحمد 2/ (800)، وابن ماجه (2249)، والترمذي (1284).
⚠️ نوٹ / توضیح: حجاج بن ارطاہ نے سند میں "میمون بن ابی شبیب" کا ذکر کر کے غلطی کی ہے۔ اسے امام احمد (2/ 800)، ابن ماجہ (2249) اور ترمذی (1284) نے روایت کیا ہے۔