المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
87. الرهن محلوب ومركوب
گروی رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھانا (دودھ دوہنا، سواری کرنا) جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2382
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن موسى القاضي، حدثنا إبراهيم بن يوسف بن خالد الرازي، حدثنا الحارث بن مِسكين وأحمد بن عمرو، قالا: حدثنا ابن وهب، حدثنا جَرير بن حازم، عن سليمان بن مِهْران، عن أبي ظَبْيان، عن ابن عباس، قال: مُرَّ على عليٍّ بمجنونة بني فلان قد زَنَتْ، وأَمَر عمرُ بن الخطّاب برَجْمِها، فردَّها عليُّ بن أبي طالب وقال لعمر: يا أميرَ المؤمنين، أمرتَ برَجْمِ هذه؟ قال: نعم، قال: أما تذكُرُ أنَّ رسول الله ﷺ قال:"رُفِعَ القلمُ عن ثلاثةٍ: عن المجنونِ المغلوبِ على عَقْله، وعن النائم حتى يَستيقِظ، وعن الصبيِّ حتى يَحتَلِم"؟ قال: صدقتَ، فخلَّى عنها (1) . قال عبد الله (2) : فالحَجْر على المجنون والمجنونة ممّا لا أعلمُ فيه خلافًا بين العلماء.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کچھ لوگ فلاں قبیلے کی ایک پاگل عورت کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قریب سے لے کر گزرے، یہ عورت زنا کی مرتکب ہوئی تھی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے رجم کا حکم دیا تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کو لے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہا: اے میرالمؤمنین! اس کو رجم کرنے کا آپ نے حکم دیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ کو یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے؟ تین لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: (1) وہ مجنون جس کی عقل زائل ہو چکی ہے۔ (2) سویا ہوا، یہاں تک کہ اُٹھ جائے۔ (3) بچہ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (اقرار کرتے ہوئے) کہا: آپ سچ کہہ رہے ہیں، اور اس خاتون کی سزا معاف کر دی۔ ٭٭ ابوعبداللہ فرماتے ہیں: مجنون مرد اور عورت پر مؤاخذہ نہ ہونے کے متعلق میری معلومات کے مطابق علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2382]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2382 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات إلا أنه قد اختُلف فيه على الأعمش في رفعه ووقفه، كما سلف بيانه برقم (962). أحمد بن عمرو: هو ابن عبد الله بن السَّرْح، وأبو ظَبْيان: هو حُصين بن جُندب الجَنْبي.
⚖️ درجۂ حدیث: "حدیث صحیح" ہے، راوی ثقہ ہیں مگر امام اعمش پر اس کے مرفوع اور موقوف ہونے میں وہی اختلاف ہے جو حدیث نمبر 962 میں گزرا۔
وأخرجه أبو داود (4401)، والنسائي (7303) عن أحمد بن عمرو بن السَّرْح، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد اور نسائی نے احمد بن عمرو کے طریق سے روایت کیا ہے۔
(2) جاء في (ز) و (ص): قال عبد الله، بدل: أبو عبد الله، وجاء بعد هذا فيهما بياض بينه وبين المقول. ويغلب على ظننا صحة ما وقع في المطبوع، ويكون المقصود بأبي عبد الله هو الحاكم نفسه أو شيخه الذي هو أحد كبار فقهاء الحنفية، وإن صحَّ ما في (ز) و (ص) فعسى أن يكون المراد به عبد الله بن وهب، فليس في الإسناد من اسمه عبد الله غيره، والله تعالى أعلم.
📝 نوٹ / توضیح: نسخوں کے اختلاف کے باوجود قرینِ قیاس یہ ہے کہ "ابو عبداللہ" سے مراد خود امام حاکم ہیں یا ان کے شیخ جو حنفی فقیہ تھے۔