المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
87. الرهن محلوب ومركوب
گروی رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھانا (دودھ دوہنا، سواری کرنا) جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2383
حدثنا أبو العباس محمد بن إسحاق الصِّبْغي، حدثنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا عبد الأعلى بن حماد، حدثنا عمر بن علي، حدثنا هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، قالت: نزلت هذه الآية ﴿وَالصُّلْحُ خَيْرٌ﴾ [النساء: 128] في رجلٍ كانت تحتَه امرأةٌ قد طالتْ صحبتُها ووَلَدت منه أولادًا، فأراد أن يَستبدِلَ بها، فراضَتْه على أن تَقِرَّ عنده ولا يَقسِمَ لها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2352 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2352 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے (آپ فرماتی ہیں)، یہ آیت ” وَالصُّلْحُ خَیْر “ (اور صلح خوب ہے) اس آدمی کے متعلق نازل ہوئی جس کے نکاح میں ایک خاتون تھی، وہ کافی عرصہ اس کے نکاح میں رہی اور اس سے کئی بچے بھی پیدا ہوئے پھر اس شخص نے اس کو طلاق دے کر دوسری عورت سے نکاح کرنے کا ارادہ کیا لیکن اس خاتون نے اپنے شوہر کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ اس کو اپنے پاس رکھ لے اور اس کے لیے باری مقرر نہ کرے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2383]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2383 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح وأبو العباس محمد بن إسحاق - وهو أخو الحافظ أبي بكر أحمد بن إسحاق الصِّبغي - كان سماعه صحيحًا كما يفيده كلام الحاكم فيما نقله عنه السمعاني في "الأنساب" في رسم الصِّبغي. عمر بن علي: هو المقدَّمي.
⚖️ درجۂ حدیث: سند "صحیح" ہے؛ راوی ابو العباس الصبغی کا سماع معتبر اور صحیح ثابت ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (1974) عن حفص بن عمرو الرَّبَالي، عن عُمر بن علي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ماجہ (1974) نے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه البخاري (2450) و (2694) و (4601) و (5206)، ومسلم (3021)، والنسائي (11060) من طرق عن هشام بن عروة، به. وعندهم: أنها نزلت في الرجل تكون عنده المرأة … إلخ، فهذا على العموم، وليس واقعة عين كما هو ظاهر رواية المصنف.
📖 حوالہ / مصدر: بخاری، مسلم اور نسائی میں ہشام بن عروہ کے طریق سے مروی ہے کہ یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی جس کے پاس بیوی ہو (اور وہ اسے چھوڑنا چاہے)۔ یہ ایک عمومی حکم ہے، کسی خاص فرد کا واقعہ نہیں۔
وانظر ما بعده.
📝 نوٹ / توضیح: اگلی روایت بھی ملاحظہ کریں۔