المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
87. الرهن محلوب ومركوب
گروی رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھانا (دودھ دوہنا، سواری کرنا) جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2384
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا العباس بن الفضل الأسفاطي، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: أنَّ سَوْدة جعلت يومَها لعائشة، وأحسَبُ في ذلك نزلت ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا﴾ [النساء: 128] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2353 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2353 - على شرط مسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اپنا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے کر دیا تھا اور میرا یہ خیال ہے کہ درج ذیل آیت انہی کے متعلق نازل ہوئی (وَاِنِ امْرَاَۃٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِھَا نُشُوْزاً اَوْ اِعْرَاضًا) ” اور اگر عورت اپنے شوہر کی زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ کرے “۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2384]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2384 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) صحيح دون ذكر نزول الآية، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، فهو حسن الحديث. وقد توبع على ذكر جعل سودة يومها لعائشة.
⚖️ درجۂ حدیث: آیت کے نزول کے ذکر کے علاوہ باقی حدیث "صحیح" ہے، اور یہ سند عبدالرحمن بن ابی الزناد کی وجہ سے "حسن" ہے۔ حضرت سودہؓ کا اپنی باری حضرت عائشہؓ کو دینا دیگر روایات سے ثابت ہے۔
وأخرجه بأطول ممّا هنا أبو داود (2135) عن أحمد بن يونس، بهذا الإسناد. وهو بنحو الرواية الآتية عند المصنف برقم (2795) من طريق الحسن بن علي بن زياد عن أحمد بن يونس.
📖 حوالہ / مصدر: امام ابوداؤد نے اسے تفصیلی طور پر روایت کیا ہے اور یہ رقم (2795) پر دوبارہ آئے گی۔
وأخرجه دون ذكر الآية أحمد 40/ (24395)، ومسلم (1463) من طريق شريك النخعي، وأحمد 41/ (24477) من طريق عبد الله بن المبارك، والبخاري (5212)، ومسلم (1463) من طريق زهير بن معاوية، ومسلم (1463)، والنسائي (8885)، وابن حبان (4211) من طريق جرير بن عبد الحميد، ومسلم، وابن ماجه (1972) من طريق عقبة بن خالد، وابن ماجه (1972) من طريق عبد العزيز بن محمد الدراوردي، كلهم عن هشام بن عروة، به. ¤ ¤ وأخرجه دون ذكر الآية أيضًا البخاري (2593)، وأبو داود (2138)، والنسائي (8874) من طريق الزُّهْري، عن عروة، به.
📖 حوالہ / مصدر: کتبِ ستہ کے تمام ائمہ نے حضرت سودہؓ کے اپنی باری دینے کا واقعہ روایت کیا ہے، مگر اس میں آیت کے نزول کا تذکرہ نہیں ہے۔
وأخرج الترمذي (3040) من حديث ابن عباس، قال: خشيَت سودة أن يُطلِّقها النبي ﷺ، فقالت: لا تطلقني وأمسكني، واجعل يومي لعائشة، ففعل، فنزلت: ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ﴾. وحسَّنه الترمذي والحافظ في "الإصابة" 7/ 720.
📖 حوالہ / مصدر: ترمذی نے ابن عباس سے روایت کیا کہ جب حضرت سودہؓ کو طلاق کا اندیشہ ہوا تو انہوں نے اپنی باری عائشہؓ کو دے دی، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَالصُّلْحُ خَيْرٌ﴾۔ امام ترمذی اور حافظ ابن حجر نے اسے "حسن" قرار دیا ہے۔
والأصح في سبب نزول الآية العموم لا خصوص قصة سودة كما في الحديث السابق.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس آیت کا سببِ نزول عمومی ہے، صرف حضرت سودہؓ کا واقعہ اس کی واحد وجہ نہیں ہے۔