🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. أى المؤمنين أكمل إيمانا
سب سے کامل ایمان والا مومن کون ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2423
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حَجّاج بن مِنْهال حدثنا حماد بن سَلَمة، عن قَتَادة، عن مُطرِّف، عن عمران بن حُصين، قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تزال طائفةٌ من أُمَّتي يُقاتِلُون على الحقِّ ظاهِرين على مَن ناوَأَهم، حتى يُقاتِلَ آخرُهم المسيحَ الدجال" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2392 - على شرط مسلم
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری اُمت میں ہمیشہ ایسی جماعت رہے گی جو حق پر لڑتے رہیں گے اور اپنے دشمنوں پر غالب رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری شخص مسیح دجال کو قتل کرے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2423]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2423 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. قتادة: هو ابن دِعامة السدوسي، ومُطرِّف: هو ابن عبد الله بن الشِّخِّير. وأخرجه أحمد (19920) عن أبي كامل وعفان بن مسلم، وأبو داود (2484) عن موسى بن إسماعيل، ثلاثتهم عن حماد بن سلمة، به.
⚖️ درجۂ حدیث: سند "صحیح" ہے؛ اسے احمد اور ابوداؤد نے حماد بن سلمہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (8596) من طريق موسى بن إسماعيل وحجاج بن منهال عن حماد بن سلمة.
📝 نوٹ / توضیح: یہ رقم (8596) پر دوبارہ مروی ہے۔
وأخرجه أحمد (19851) عن بهز بن أسد، عن حماد بن سلمة، بلفظ: "حتى يأتي أمر الله، وينزل عيسى ابن مريم".
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ: "یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آ جائے اور عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں"۔
وأخرجه أحمد (19895) عن إسماعيل ابن عُلَيَّة، عن سعيد الجُريري، عن أبي العلاء يزيد بن عبد الله بن الشِّخير، عن أخيه مطرف، عن عمران، موقوفًا. ¤ ¤ وقوله: "ناوأهم" أي: ناهضهم للقتال، وأصله من ناء ينوء: إذا نهض.
📝 لغوی تشریح: امام احمد نے اسے "موقوف" (صحابی کا قول) بھی روایت کیا ہے۔ "ناوأهم" کا مطلب ہے دشمن کے مقابلے کے لیے اٹھنا اور قتال کرنا۔