المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. أى المؤمنين أكمل إيمانا
سب سے کامل ایمان والا مومن کون ہے؟
حدیث نمبر: 2424
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرنا عمرو بن الحارث، أنَّ أبا عُشّانة المَعَافِري حدثه، أنه سمع عبد الله بن عمرو بن العاص يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"إِنَّ أول ثُلَّةٍ تدخل (1) الجنةَ لَفُقَراءُ المهاجرين الذين تُتَّقى بهم المَكارِهُ، إذا أُمِروا سَمِعُوا وأطاعُوا، وإن كانت لرجل منهم حاجةٌ إلى السلطانِ لم تُقضَ له حتى يموتَ وهي في صَدْره، وإنَّ الله تعالى يدعُو يومَ القيامة الجنةَ، فتأتي بزُخْرُفِها وزينتِها، فيقول: أين عبادي الذين قاتَلُوا في سَبِيلي، وقُتِلوا، وأُوذُوا في سبيلي، وجاهَدوا في سبيلي، ادخُلُوا الجنةَ، فيدخُلُونها بغير حِسابٍ ولا عَذابٍ، وتأتي الملائكةُ فيقولون: ربَّنا نحن نُسبِّحُ لك الليلَ والنهارَ، ونُقدِّسُ لك، مَن هؤلاء الذين آثرتَهم علينا؟ فيقول الربُّ ﵎: هؤلاءِ الذين قاتَلُوا في سبيلي، وأُوذُوا في سبيلي، فتدخُلُ عليهمُ الملائكةُ من كلِّ بابٍ: سلامٌ عليكُم بما صَبَرتُم فنِعْمَ عُقْبَى الدّارِ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2393 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2393 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے پہلے جو جماعت جنت میں داخل ہو گی وہ فقراء مہاجرین ہیں۔ ان کے ذریعے تکالیف دور ہو جاتی ہیں، جب ان کو حکم دیا جاتا ہے تو وہ غور سے سنتے ہیں اور اطاعت کرتے ہیں۔ اگر ان میں سے کسی شخص کو بادشاہ کے ساتھ کوئی ضروری حاجت ہو تو مرنے تک وہ پوری نہیں ہوتی اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت کو بلائے گا، وہ اپنی مکمل آب و تاب کے ساتھ آئے گی، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے وہ بندے کہاں ہیں جنہوں نے فی سبیل اللہ جہاد کیا اور وہ میرے راستے میں شہید کیے گئے اور ان کو میرے راستے میں اذیتیں دی گئیں اور انہوں نے میرے راستے میں جہاد کیا (پھر ان سے مخاطب ہو کر فرمائے گا) تم جنت میں داخل ہو جاؤ تو وہ لوگ بغیر حساب و کتاب کے جنت میں چلے جائیں گے پھر فرشتے آئیں گے اور کہیں گے: یااللہ! ہم دن رات تیری تسبیح اور تقدیس بیان کرتے رہے، تو نے ان کو ہم پر ترجیح دے دی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے میرے راستے میں جہاد کیا اور ان کو میرے راستے میں ستایا گیا۔ پھر فرشتے ہر دروازے سے ان کی طرف آئیں گے (اور کہیں گے) تم نے جو صبر کیا، اس کے بدلے تم پر سلامتی ہو، آخرت کا گھر کتنا ہی اچھا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2424]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2424 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ز): يدخلون.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں "یدخلون" کے الفاظ مذکور ہیں۔
(2) إسناده صحيح. ابن وهب: هو عبد الله، وأبو عُشّانة: هو حيّ بن يُومِن.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود راوی ابن وہب سے مراد عبداللہ بن وہب ہیں، اور ابو عُشانہ سے مراد حی بن یومن ہیں۔
وأخرجه بنحوه أحمد 11/ (6570)، وابن حبان (7421) من طريق معروف بن سُويد الجُذامي، وأحمد (6571) من طريق عبد الله بن لهيعة، كلاهما عن أبي عُشّانة المعافري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام احمد نے المسند 11/ (6570) اور ابن حبان نے (7421) میں معروف بن سوید الجذامی کے طریق سے، اور امام احمد نے (6571) میں عبداللہ بن لہیعہ کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں (معروف اور ابن لہیعہ) اسے ابو عُشانہ المعافری سے روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه مختصرًا أحمد (6650) من طريق سفيان بن عوف، عن عبد الله بن عمرو، بلفظ: "سيأتي أناس من أمتي يوم القيامة، نورهم كضوء الشمس" قلنا: من أولئك يا رسول الله؟ فقال: "فقراء المهاجرين الذي تُتَّقى بهم المكاره، يموت أحدهم وحاجته في صدره، يُحشرون من أقطار الأرض". وإسناده حسن وإن كان في إسناده ابنُ لهيعة، فقد رواه عنه ابن المبارك وأبو عبد الرحمن المقرئ، وكلاهما ممَّن سمع منه قديمًا قبل احتراق كتبه.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد نے (6650) میں سفیان بن عوف عن عبداللہ بن عمرو کے طریق سے اسے مختصراً ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: "میری امت کے کچھ لوگ قیامت کے دن ایسے آئیں گے جن کا نور سورج کی روشنی جیسا ہوگا" ہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ فقراء مہاجرین ہیں جن کے ذریعے سختیوں سے بچا جاتا ہے، ان میں سے کوئی اس حال میں فوت ہوتا ہے کہ اس کی ضرورت اس کے سینے میں (دبی) رہ جاتی ہے، وہ زمین کے کناروں سے اکٹھے کیے جائیں گے"۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اگرچہ اس کی سند میں عبداللہ بن لہیعہ موجود ہیں، لیکن ان سے یہ روایت عبداللہ بن المبارک اور ابو عبدالرحمن المقرئ نے نقل کی ہے، اور یہ دونوں ان راویوں میں سے ہیں جنہوں نے ابن لہیعہ کی کتب جلنے سے پہلے ان سے (قدیم) سماع کیا تھا (جس کی وجہ سے روایت معتبر ہے)۔
وانظر ما تقدم برقم (2420).
📝 نوٹ / توضیح: اس سلسلے میں پیچھے گزرنے والی حدیث نمبر (2420) ملاحظہ فرمائیں۔