🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. الجهاد يذهب الله به الهم والغم
جہاد کے ذریعے اللہ تعالیٰ غم اور پریشانی دور کر دیتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2436
أخبرنا محمد بن الحسن القارِزِيّ (2) ، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجاج بن مِنْهال، حدثنا حماد سَلَمة، عن ثابت، عن أنس، قال: قال رسول الله ﷺ:"يُؤتَى بالرجل من أهلِ الجنةِ، فيقول اللهُ له: يا ابنَ آدمَ، كيفَ وجدتَ مَنزلَكَ؟ فيقول: أيْ رَبِّ، خيرَ مَنزلٍ، فيقول: سَلْ وتَمنَّهْ، فيقول: ما أسألُك وأتمنّى؟ أسألُك أن تَرُدَّني إلى الدنيا، فأُقتلَ في سبيلِك عشرَ مَرّاتٍ، لما رَأى مِن فَضْلِ الشهادةِ". قال: ويُؤتى بالرجلِ مِن أهل النار، فيقولُ اللهُ: يا ابن آدم، كيفَ وجدتَ مَنزِلَكَ؟ فيقولُ: أَيْ رَبِّ، شَرَّ مَنزلٍ، فيقول اللهُ ﷿: فتَفْتَدي منه بطِلَاعِ الأرض ذهبًا؟ فيقول: نعم، فيقول: كذبتَ، قد سألتُكَ دونَ ذلك فلم تَفعَلْ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2405 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک جنتی آدمی کو (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں) لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: اے ابن آدم! تجھے اپنا مقام کیسا لگا؟ وہ کہے گا: اے اللہ! بہت اچھا مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا (کچھ اور) مانگ اور تمنا کر، وہ کہے گا: میں تجھ سے کیا مانگوں؟ میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دس مرتبہ دنیا میں بھیجے اور میں دس مرتبہ تیری راہ میں قتل کیا جاؤں، کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت دیکھ چکا ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور ایک جہنمی آدمی کو (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں) لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تجھے تیرا مقام کیسا لگا؟ وہ کہے گا: اے میرے ربّ! بہت ہی بُرا مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو اپنی طرف سے زمین بھر سونا فدیہ دے سکتا ہے؟ وہ کہے گا: جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، میں نے تجھ سے اس سے بہت کم مانگا تھا لیکن تو نے نہیں دیا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور اسی انداز میں درج ذیل حدیث بھی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2436]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2436 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: القاري، وإنما هو القارزي، بزيادة الزاي بعد الراء، وهي نسبة إلى قرية من قرى نيسابور يقال لها: قارز، وتقال بالكاف أيضًا، فيقال: الكارزي، وانظر "الأنساب" للسمعاني في نسبة (القارزي) و"الكارزي" و (المكاتب)، وانظر "معجم البلدان" لياقوت رسم (قارز).
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف کا شکار ہو کر "القاری" ہو گیا ہے، حالانکہ درست "القارزی" (راء کے بعد زاء کے ساتھ) ہے، جو نیشاپور کے ایک گاؤں "قارز" کی طرف نسبت ہے۔ السمعانی کی "الانساب" اور یاقوت کی "معجم البلدان" میں اس کی صراحت موجود ہے۔
(3) إسناده صحيح، ومحمد بن الحسن القارِزي: هو محمد بن محمد بن الحسن، كان المصنّف ينسبه أحيانًا لجده، كما فعل هنا. ثابت: هو ابن أسلم البُناني. ¤ ¤ وأخرجه أحمد 19/ (12342)، و 20/ (13162) و 21/ (13511)، والنسائي (4353)، وابن حبان (7350) من طرق عن حماد بن سلمة، به. وبعضهم يقتصر على أحد الشطرين.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن الحسن القارزی دراصل محمد بن محمد بن الحسن ہیں، جنہیں مصنف کبھی دادا کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ ثابت سے مراد ثابت بن اسلم البنانی ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (12342، 13162، 13511)، نسائی (4353) اور ابن حبان (7350) نے حماد بن سلمہ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
وأخرج الشطر الأول منه لكن بذكر الشهيد بدل الرجل من أهل الجنّة: أحمد 19/ (12771)، و (13926) و (14083)، والبخاري (2817)، ومسلم (1877)، والترمذي (1661)، وابن حبان (4662) من طريق قتادة عن أنس.
📖 حوالہ / مصدر: حدیث کا پہلا حصہ "رجل من اہل الجنہ" کے بجائے "شہید" کے لفظ کے ساتھ امام احمد (12771، 13926، 14083)، بخاری (2817)، مسلم (1877)، ترمذی (1661) اور ابن حبان (4662) نے قتادہ عن انس کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وقد رَوى هذا الشطرَ بذكر الشهيد أيضًا حمادُ بن سلمة عن ثابت عن أنس، لكن قال فيه: "فيُقتَلَ"، ولم يقل: "عشر مرات": أخرجه أحمد 19/ (12273) و 20/ (12557)، و 21/ (14033).
🧩 متابعات و شواہد: یہی حصہ حماد بن سلمہ نے ثابت عن انس کے طریق سے بھی روایت کیا ہے، مگر اس میں "وہ قتل کیا جائے" کے الفاظ ہیں اور "دس مرتبہ" کا ذکر نہیں ہے۔ اسے احمد (12273، 12557، 14033) نے روایت کیا ہے۔
وأخرج الشطر الثاني منه أحمد 21/ (13288) و (14107)، والبخاري (6538)، ومسلم (2805)، وابن حبان (7351) من طريق قتادة، وأحمد 19/ (12289) و (12312)، والبخاري (3334) و (6557)، ومسلم (2805) من طريق أبي عمران الجَوني، كلاهما عن أنس بن مالك. لكن قال الجوني في روايته: "يقول الله لأهون أهل النار عذابًا"، وقال قتادة: "يُقال للكافر".
📖 حوالہ / مصدر: دوسرا حصہ امام احمد، بخاری (6538، 3334، 6557)، مسلم (2805) اور ابن حبان نے قتادہ اور ابو عمران الجونی عن انس کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: جونی کی روایت میں "جہنمیوں میں سب سے ہلکے عذاب والے سے اللہ فرمائے گا" کے الفاظ ہیں، جبکہ قتادہ نے "کافر سے کہا جائے گا" کے الفاظ کہے ہیں۔
طِلاع الأرض: ما يَملؤها حتى يطلع عنها ويسيل.
📝 نوٹ / توضیح: "طلاع الارض" سے مراد وہ مقدار ہے جو زمین کو اس طرح بھر دے کہ اس سے اوپر نکل کر بہنے لگے۔