المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
11. الْجِهَادُ يُذْهِبُ اللَّهُ بِهِ الْهَمَّ وَالْغَمَّ
جہاد کے ذریعے اللہ تعالیٰ غم اور پریشانی دور کر دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 2435
أخبرنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن سلمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبُوب بن موسى، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري (2) ، عن عبد الرحمن بن عيّاش، عن سليمان بن موسى، عن مكحول، عن أبي أُمامة، عن عُبادة بن الصامت، قال: قال رسول الله ﷺ:"عليكم بالجهادِ في سبيل الله، فإنه بابٌ من أبوابِ الجنّةِ، يُذهِبُ اللهُ به الهَمَّ والغَمَّ" (3) وزاد فيه غيرُه:"وجاهِدُوا في سبيل الله القريبَ والبعيدَ، وأقِيموا حدودَ الله في القريب والبعيد، ولا تأخُذْكم في الله لومةُ لائم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2404 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2404 - صحيح
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم پر جہاد فی سبیل اللہ لازم ہے کیونکہ یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے، اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ غم اور پریشانیاں ختم کرتا ہے اور اس میں دوسرے راوی نے یہ اضافہ بھی کیا ہے ” اللہ کی راہ میں ہر قریبی اور دور کے تعلق دار کے ساتھ جہاد کرو اور ہر قریبی اور دور کے تعلق دار پر اللہ تعالیٰ کی حد نافذ کرو اور اللہ (کے احکام پر عمل کرنے) میں تمہیں کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے “۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2435]
حدیث نمبر: 2436
أخبرنا محمد بن الحسن القارِزِيّ (2) ، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجاج بن مِنْهال، حدثنا حماد سَلَمة، عن ثابت، عن أنس، قال: قال رسول الله ﷺ:"يُؤتَى بالرجل من أهلِ الجنةِ، فيقول اللهُ له: يا ابنَ آدمَ، كيفَ وجدتَ مَنزلَكَ؟ فيقول: أيْ رَبِّ، خيرَ مَنزلٍ، فيقول: سَلْ وتَمنَّهْ، فيقول: ما أسألُك وأتمنّى؟ أسألُك أن تَرُدَّني إلى الدنيا، فأُقتلَ في سبيلِك عشرَ مَرّاتٍ، لما رَأى مِن فَضْلِ الشهادةِ". قال: ويُؤتى بالرجلِ مِن أهل النار، فيقولُ اللهُ: يا ابن آدم، كيفَ وجدتَ مَنزِلَكَ؟ فيقولُ: أَيْ رَبِّ، شَرَّ مَنزلٍ، فيقول اللهُ ﷿: فتَفْتَدي منه بطِلَاعِ الأرض ذهبًا؟ فيقول: نعم، فيقول: كذبتَ، قد سألتُكَ دونَ ذلك فلم تَفعَلْ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2405 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2405 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک جنتی آدمی کو (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں) لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: اے ابن آدم! تجھے اپنا مقام کیسا لگا؟ وہ کہے گا: اے اللہ! بہت اچھا مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا (کچھ اور) مانگ اور تمنا کر، وہ کہے گا: میں تجھ سے کیا مانگوں؟ میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دس مرتبہ دنیا میں بھیجے اور میں دس مرتبہ تیری راہ میں قتل کیا جاؤں، کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت دیکھ چکا ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور ایک جہنمی آدمی کو (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں) لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تجھے تیرا مقام کیسا لگا؟ وہ کہے گا: اے میرے ربّ! بہت ہی بُرا مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو اپنی طرف سے زمین بھر سونا فدیہ دے سکتا ہے؟ وہ کہے گا: جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، میں نے تجھ سے اس سے بہت کم مانگا تھا لیکن تو نے نہیں دیا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور اسی انداز میں درج ذیل حدیث بھی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2436]