🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. لا تتمنوا لقاء العدو وسلوا الله العافية
دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت مانگو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2445
أخبرنا أبو عبد الله الحُسين بن الحَسن الأديب، حدثنا عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مَسَرّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَيْوة بن شُريح، حدثنا أبو هانئٍ الخَوْلاني، أنه سمع أبا عبد الرحمن الحُبَليّ يقول: سمعتُ عبدَ الله بن عمرو يقول: قال رسول الله ﷺ:"ما من غازِيَةٍ تَغزُو في سَبيلِ الله فيُصيبُون غنيمةً، إلّا تَعجَّلُوا ثُلثَي أجرِهم مِن الآخرة، ويَبقَى لهمُ الثُّلثُ، فإن لم يُصِيبُوا غَنيمةً، تَمَّ لهم أجرُهم" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2414 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی بھی لشکر اللہ کی راہ میں جہاد کرے، تو اگر ان کو مالِ غنیمت حاصل ہو جائے تو انہوں نے اپنے آخرت کے اجر سے دو تہائی وصول کر لیا ہے اور ان کا ایک تہائی باقی ہے اور اگر ان کو مالِ غنیمت نہ ملے تو ان کا پورے کا پورا اجر باقی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2445]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2445 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو هانئ الخَولاني: هو حميد بن هانئ، وأبو عبد الرحمن الحُبلي: هو ¤ ¤ عبد الله بن يزيد المَعَافِري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود راوی ابو ہانئ الخولانی سے مراد حمید بن ہانئ ہیں، اور ابو عبدالرحمن الحبلی سے مراد عبداللہ بن یزید المعافری ہیں۔
وأخرجه أحمد 11/ (6577)، ومسلم (1906)، وأبو داود (2497)، وابن ماجه (2785)، والنسائي (4318) من طرق عن عبد الله بن يزيد المقرئ، بهذا الإسناد. وقَرَنَ عبدُ الله بن يزيد في بعض الروايات بحيوة عبدَ الله بنَ لهيعة. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (6577)، مسلم (1906)، ابوداؤد (2497)، ابن ماجہ (2785) اور نسائی (4318) نے عبداللہ بن یزید المقرئ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کی بھول (ذہول) ہے کیونکہ یہ پہلے ہی صحیح مسلم میں موجود ہے۔
وأخرجه مسلم (1906) من طريق نافع بن يزيد، عن أبي هانئ الخولاني، به.
📖 حوالہ / مصدر: امام مسلم (1906) نے اسے نافع بن یزید عن ابی ہانئ الخولانی کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔
غازية: تأنيث غازٍ، وهو صفة لجماعة غازيةٍ.
📝 نوٹ / توضیح: "غازیۃ" لفظ غازی کی تانیث ہے، اور یہ جہاد کرنے والی جماعت یا گروہ کی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔