المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
37. الخيل معقود فى نواصيها الخير
گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک خیر بندھی ہوئی ہے۔
حدیث نمبر: 2486
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الوهاب بن حبيب العَبْدي، حدثنا جعفر بن عَون، حدثنا هشام بن سعد، حدثني قيس بن بِشْر التَّغلِبي قال: كان أَبي جليسًا لأبي الدرداء بدمشق، وكان بدمشقَ رجلٌ من أصحاب النبي ﷺ يقال له: ابن الحنظَلِية الأنصاري، فمرَّ بنا يومًا فسَلّم، فقال له أبو الدرداء: كلمةً تَنفعُنا ولا تَضرُّك، قال: قال لنا رسول الله ﷺ:"إِنَّ المُنفِق على الخيلِ في سبيل الله كباسِطِ يدَيهِ بالصدقةِ لا يَقبِضُها" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2455 - أخرجناه شاهدا
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2455 - أخرجناه شاهدا
سیدنا قیس بن بشر تغلبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے والد، ابودرداء کے دمشق میں ہم نشیں تھے اور دمشق میں ایک صحابی رسول رہا کرتے تھے جن کو ابن حنظلیہ انصاری کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ ایک دن وہ ہمارے پاس سے گزرے تو انہوں نے سلام کیا (سلام کا جواب دینے کے بعد) سیدنا ابوالدرداء نے ان سے کہا: ایک ایسی بات ہے جو ہمارے لیے فائدہ مند ہے اور آپ کے لیے نقصان دہ نہیں ہے پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنایا ” اللہ تعالیٰ کی راہ میں گھوڑوں پر خرچ کرنے والا، اس شخص کی طرح ہے جو ہمیشہ صدقہ کرتا ہے “۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2486]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2486 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) صحيح بما قبله، وهذا إسناد محتمل للتحسين، فإنَّ بشرًا - وهو ابن قيس - تابعي كبير يروي عن عمر بن الخطاب، وكان جَليسًا لأبي الدرداء، وروى عنه ابنه وزياد بن عِلاقة، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وهشام بن سعد حسن الحديث في المتابعات والشواهد، وقيس بن بشر - وهو يروي هذا الخبر عن أبيه - تفرَّد بالرواية عنه هشام وقال عنه: كان رجل صدق، وقال أبو حاتم: ما أرى به بأس. وقد حسَّن الحافظُ ابن حجر هذا الحديث في "الأمالي المطلقة" ص 35 في المجلس الثمانين.
⚖️ درجۂ حدیث: شواہد کی بنا پر صحیح ہے، اور انفرادی طور پر یہ سند "حسن" درجے کی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: بشر بن قیس ثقہ تابعی ہیں اور ہشام بن سعد متابعات میں حسن الحدیث ہیں۔ حافظ ابن حجر نے اسے "الامالی المطلقہ" میں حسن قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 29/ (17622)، وأبو داود (4089) ضمن حديث من طريق أبي عامر عبد الملك بن عمرو العَقَدي، عن هشام بن سعد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ابوداؤد (4089) نے ہشام بن سعد کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔