🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. إن إسماعيل عليه السلام كان راميا
بے شک سیدنا اسماعیل علیہ السلام تیر اندازی کرتے تھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2497
أخبرني أبو عمرو بن إسماعيل، حدثنا محمد بن إسحاق بن خُزيمة، حدثنا محمد بن مِسكين اليَمَامي وإسماعيل بن إسرائيل اللُّؤلؤي، قالا: حدثنا يحيى بن حسّان، حدثنا سليمان بن بلال، عن عبد الرحمن بن حَرْملة، عن محمد بن إياس بن سَلَمة، عن أبيه، عن جده: أنَّ رسول الله ﷺ مَرَّ على ناسٍ يَنْتَضِلون فقال:"حَسَنٌ هذا اللهوُ (1) - مرتين أو ثلاثًا - ارمُوا وأنا مع ابن الأدْرَع (2) " فأمسكَ القومُ بأيديهم، فقالوا: لا والله لا نَرمي معه وأنت معه يا رسول الله، إذًا يَنْضُلَنا، فقال:"ارمُوا (3) وأنا معكم جميعًا"، وقالا: فقال: لقد رَمَوا عامّةَ يومِهم ذلك، ثم تفرَّقوا على السَّواء، ما نَضَل بعضُهم بعضًا (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2466 - على شرط مسلم
سیدنا ایاس بن سلمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کچھ ایسے لوگوں پر ہوا جو تیراندازی میں مقابلہ کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دو تین مرتبہ شاباش دی پھر فرمایا: تم تیراندازی جاری رکھو اور میں ادرع کے بیٹے کے ساتھ ہوں، لوگ ہاتھ چھوڑ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے: خدا کی قسم! ہم اس کے ساتھ مقابلہ نہیں کریں گے کیونکہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ اس کے ہمراہ ہوں گے تو وہ ہم سے جیت جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) تم تیراندازی جاری رکھو، میں تم سب کے ہمراہ ہوں (راوی فرماتے ہیں) اس دن وہ لوگ کافی دیر تک تیراندازی کا مقابلہ کرتے رہے، بالآخر برابری پر ہی ان کا مقابلہ ختم ہو گیا اور ان میں سے کوئی فریق بھی دوسرے کو نہ ہرا سکی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2497]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2497 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: اللهم، وجاء على الصواب في "دلائل النبوة" للبيهقي 6/ 255 حديث رواه عن الحاكم بسنده، وكذا هو لفظه عند سائر من خرَّج هذا الحديث.
⚠️ تصحیحِ سہو: قلمی نسخوں میں لفظ "اللہم" تحریف کا شکار ہوا ہے، درست لفظ وہی ہے جو بیہقی اور دیگر ذرائع میں ہے۔
(2) تحرَّف في (ز) و (ص) و (ع) إلى: ابن الأكوع، وجاء على الصواب في (ب) وفي "دلائل النبوة" للبيهقي، وكذا جاء على الصواب في "إتحاف المهرة" للحافظ، (5997)، وفاقًا لحديث أبي هريرة الذي قبله.
⚠️ تصحیحِ سہو: بعض نسخوں میں غلطی سے "ابن اکوع" لکھا گیا ہے، جبکہ درست لفظ پچھلی روایت کے موافق حضرت ابوہریرہؓ ہی ہے۔
(3) جاء في (ز) و (ص): "إذًا" بدل: "ارموا"، والمثبت هو الموافق لرواية البيهقي في "الدلائل" وغيره من مصادر التخريج.
📝 نسخوں کا فرق: بعض نسخوں میں "ارموا" کی جگہ "اذاً" ہے، مگر "ارموا" زیادہ صحیح اور معتبر ہے۔
(4) حديث صحيح، ومحمد بن إياس بن سلمة - وإن لم يرو عنه غير عبد الرحمن بن حرملة، ولم يذكره غير ابن حبان في "الثقات" - متابع.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔ محمد بن ایاس بن سلمہ اگرچہ اکیلے راوی لگتے ہیں مگر ان کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 27/ (16528)، والبخاري (2899) و (3373)، و (3507)، وابن حبان (4693) و (4694) من طريق يزيد بن أبي عبيد، عن سلمة بن الأكوع. بنحو لفظ أبي هريرة الذي قبله.
📖 حوالہ / مصدر: امام بخاری اور امام احمد نے اسے یزید بن ابی عبید عن سلمہ بن اکوعؓ کے طریق سے روایت کیا ہے۔