المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
49. فضل مشايعة المجاهدين
مجاہدین کے ساتھ رخصت کرنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2511
أخبرني أبو أحمد الحسين بن علي التَّميمي، حدثنا أحمد بن محمد بن الحسين، حدثنا عمرو بن زرارة، حدثنا زياد بن عبد الله، عن محمد بن إسحاق، عن ثَور ابن يزيد، عن عكرمة، عن ابن عبَّاس، قال: مَشى معهم رسولُ الله ﷺ إلى بَقيع الغَرْقَد حين وجَّهَهم، ثم قال:"انطَلِقوا على اسمِ الله، اللهمَّ أَعِنْهُم" (3) . قد احتجَّ البخاري بثور بن يزيد وعِكْرمة، واحتجَّ مسلم بمحمد بن إسحاق، و
هذا حديث غريب صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2480 - صحيح
هذا حديث غريب صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2480 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو (جہاد کے لیے) روانہ کیا تو آپ ہمارے ہمراہ چلتے ہوئے بقیع غرقد تک تشریف لائے، پھر فرمایا: جاؤ اللہ تعالیٰ کے نام پر، اے اللہ! ان کی مدد فرما۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ثور بن یزید اور عکرمہ کی روایات نقل کی ہیں اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے محمد بن اسحٰق کی روایات نقل کی ہیں اور یہ حدیث غریب صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2511]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2511 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق، وقد صرَّح بسماعه عند أحمد وغيره، فانتفت شبهة تدليسه. وثور المذكور في الإسناد كذلك جاء في أصول "المستدرك" مقيّدًا بابن يزيد، وكذلك قُيّد في أصول "مسند أحمد" التي بأيدينا، إلَّا أنَّ الحافظ ابن حجر أورد هذا الحديث في "أطراف المسند" في ترجمة ثور بن زيد الدِّيْلي عن عكرمة، وهو الصحيح كما جاء في السيرة النبوية لابن هشام 2/ 55 بروايته عن زياد بن عبد الله البكائي عن محمد بن إسحاق، إذ قُيِّد فيها بابن زيد، ومما يؤكّده أنه قُيِّد في رواية الطبري في "تاريخه" 2/ 490 والبيهقي في "الدلائل" 3/ 199 - 200 بالدِّيلي، وهذه نسبةُ ثور بن زيد، لا ثور بن يزيد، لأنَّ هذا الثاني كَلاعي، وقُيِّد في رواية ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 5/ 272 بالمدني، وهي نسبةُ ابن زيد أيضًا، وابن يزيد حمصي، وإن كان ابن إسحاق يروي عن كلا الرجلين، إلّا أن روايته لهذا الحديث عن ثور بن زيد الدِّيلي المدني، والله ولي التوفيق. ¤ ¤ وأخرجه أحمد 4 / (2391) عن يعقوب بن إبراهيم بن سعد، عن أبيه، عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند محمد بن اسحاق کی وجہ سے حسن ہے، انہوں نے احمد وغیرہ کے ہاں سماع کی تصریح کر دی ہے جس سے تدلیس کا شبہ ختم ہو گیا۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں مذکور 'ثور' کے بارے میں اختلاف ہے۔ مستدرک اور مسند احمد کے اصول میں یہ 'ابن یزید' مقید ہے، لیکن حافظ ابن حجر نے اسے 'ثور بن زید الدیلی' کے ترجمہ میں ذکر کیا ہے اور یہی صحیح ہے، کیونکہ ابن ہشام کی 'سیرت' (2/55) اور طبری (2/490) و بیہقی (3/199) کی روایات میں اسے 'الدیلی' یا 'المدنی' کہا گیا ہے، جبکہ ثور بن یزید 'کلاعی' اور 'حمصی' ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (2391) میں یعقوب بن ابراہیم عن ابیہ عن ابن اسحاق کی سند سے روایت کیا ہے۔