🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
71. فضل الضعفاء يوم القيامة .
قیامت کے دن کمزوروں کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2540
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا بِشْر بن بكر، حدثني ابن جابر، عن زيد بن أرْطَاةَ، عن جُبَير بن نُفَير، عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله ﷺ:"ابغُوني الضعفاءَ، فإنما تُرزَقُون وتُنصَرُون بضعفائِكم" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أخرجا (1) حديث سعد بن أبي وقَّاص: أنه ظنَّ أنَّ له فَضْلًا على مَن دُونَه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2509 - صحيح
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے کمزور لوگوں میں ڈھونڈو کیونکہ انہی کمزور لوگوں کے سبب سے تمہیں رزق دیا جاتا ہے اور انہی کی بدولت تمہاری مدد کی جاتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ غریب اور کمزور آدمی کو دوسروں پر ایک خاص فضیلت حاصل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2540]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2540 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. ابن جابر: هو عبد الرحمن بن يزيد بن جابر.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ راوی ابن جابر سے مراد عبد الرحمن بن یزید ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2594) من طريق الوليد بن مسلم، والنسائي (4373) من طريق عمر بن عبد الواحد، كلاهما عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد اور نسائی نے ولید بن مسلم اور عمر بن عبد الواحد کے طرق سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (2673) من طريق عبد الله بن المبارك عن ابن جابر. ¤ ¤ وقوله: "ابغوني" بوصل الهمزة من الثلاثي، أي: اطلبوا لي، أو بقطعها من الرباعي، أي: أعينوني على الطلب.
📝 نوٹ / توضیح: "ابغونی" (ہمزہ وصلی کے ساتھ) کا مطلب ہے 'میرے لیے تلاش کرو'، اور اگر ہمزہ قطعی ہو تو مطلب ہے 'تلاش میں میری مدد کرو'۔
(1) أخرجه البخاري (2896) وحده دون مسلم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اکیلے امام بخاری (2896) نے روایت کیا ہے، امام مسلم نے نہیں۔