🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
84. دُخُولُ الْجَنَّةِ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ لِلَّهِ صَلَاةً .
بغیر کوئی نماز پڑھے جنت میں داخل ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2565
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرنا محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة: أنَّ عمرو بن أُقيش كان له رِبًا في الجاهلية، فكَرِهَ أن يُسلِمَ حتى يأخُذه، فجاء يوم أُحدٍ، فقال: أين بنو عمِّي، فقالوا: بأُحُد، فقال: أين فلانٌ؟ قالوا: بأُحُد، قال: أين فلانٌ؟ قالوا: بأُحُد، فلَبِسَ لَأمَتَه، ورَكِبَ فرسَه ثم توجّه قِبَلَهم، فلما رآه المسلمون قالوا: إليك عنّا يا عمرو، قال: إني آمنتُ، فقاتلَ حتى جُرِح، فحُمِل إلى أهله جريحًا، فجاءه سعد بن معاذ، فقال لأختِه سَلِيهِ: حَميَّةً لقومِك أو غضبًا لهم، أم غضبًا الله ورسولِه؟ فقال: بل غضبًا الله ورسوله، فماتَ فدخل الجنةَ، وما صلَّى الله صلاةً (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2533 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمرو بن اقییش رضی اللہ عنہ کا دورِ جاہلیت کا کچھ سود (لوگوں کے ذمے) باقی تھا، اس لیے وہ اسلام لانے سے کتراتے تھے کہ پہلے وہ سود وصول کر لیں۔ جب غزوہ احد کا دن آیا تو انہوں نے پوچھا: میرے چچا زاد بھائی کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا: احد میں۔ انہوں نے پوچھا: فلاں کہاں ہے؟ کہا: احد میں۔ انہوں نے (اسی وقت) اپنی زرہ پہنی، گھوڑے پر سوار ہوئے اور احد کا رخ کیا۔ جب مسلمانوں نے انہیں دیکھا تو کہا: اے عمرو! ہم سے دور رہو (کیونکہ تم مسلمان نہیں ہو)۔ انہوں نے کہا: میں ایمان لا چکا ہوں، پھر انہوں نے قتال کیا یہاں تک کہ زخمی ہو گئے اور انہیں زخمی حالت میں ان کے گھر لایا گیا۔ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور ان کی بہن سے کہا: ان سے پوچھو کہ اپنی قوم کی غیرت میں لڑے ہو یا اللہ اور اس کے رسول کی خاطر؟ انہوں نے جواب دیا: بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر۔ پھر ان کا انتقال ہو گیا اور وہ جنت میں داخل ہوئے حالانکہ انہوں نے (اسلام لانے کے بعد) اللہ کے لیے ایک بھی نماز نہیں پڑھی تھی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2565]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي أبو سلمة: هو ابن عبد الرحمن ابن عوف. وقد حسَّنه الحافظ ابن حجر في "الإصابة" 4/ 609.» [ترقيم الرساله 2565] [ترقيم الشركة 2548] [ترقيم العلميه 2533]

الحكم على الحديث: إسناده حسن

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2565 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي أبو سلمة: هو ابن عبد الرحمن ابن عوف. وقد حسَّنه الحافظ ابن حجر في "الإصابة" 4/ 609.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند محمد بن عمرو (بن علقمہ لیثی) کی وجہ سے "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابوسلمہ سے مراد ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: حافظ ابن حجر نے "الاصابہ" (4/ 609) میں اسے حسن قرار دیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (2537) عن موسى بن إسماعيل، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد نے (2537) میں موسیٰ بن اسماعیل کی سند سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (4363) من طريق حجاج بن منهال عن حماد بن سلمة.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت آگے نمبر (4363) پر حجاج بن منہال عن حماد بن سلمہ کے طریق سے آئے گی۔
واللأمة: آلة الحرب من درع وسلاح.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "اللَّأمۃ" سے مراد جنگی ہتھیار اور زرہ (آلاتِ حرب) ہیں۔
(2) في (ز) و (ص) و (ع): حتى والمثبت من (ب)، "وتلخيص الذهبي"، وهو الموافق لرواية البيهقي في "السنن الكبرى" 3/ 360 عن أبي عبد الله الحاكم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز، ص، ع) میں "حتی" ہے، لیکن نسخہ (ب) اور "تلخیص الذہبی" سے تصحیح کر کے متن ثابت کیا گیا ہے، جو کہ بیہقی (3/ 360) کی روایت کے بھی مطابق ہے۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل موسى بن يعقوب الزمعي، وقد توبع. وسلف الحديث برقم (730) من طريق أحمد بن مِهْران عن سعيد بن أبي مريم.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: متابعات و شواہد کی بنا پر یہ سند موسیٰ بن یعقوب زمعی کی وجہ سے "حسن" ہے اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: یہ حدیث پہلے نمبر (730) پر احمد بن مہران عن سعید بن ابی مریم کے طریق سے گزر چکی ہے۔
(1) تحرَّف في (ز) و (ص) و (ع) إلى المزني بالزاي والتصويب من (ب) و "التلخيص".
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز، ص، ع) میں نام "المزنی" (زا کے ساتھ) میں بدل گیا ہے، جبکہ درست نام کی تصحیح نسخہ (ب) اور "التلخیص" سے کی گئی ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2565 in Urdu