🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
84. دخول الجنة قبل أن يصلي لله صلاة .
بغیر کوئی نماز پڑھے جنت میں داخل ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2566
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن شَريك البَزار، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا موسى بن يعقوب الزَّمْعي، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد، قال: قال رسول الله ﷺ: ثِنْتَانِ لا تُرَدّان -: أو قال ما تُرَدّان-: الدعاءُ عند النَّداء، أو عند البَأْسِ حين (2) يُلحِمُ بعضُهم بعضًا" (3) . قال موسى بن يعقوب: وحدثني رِزْق بن سعيد بن عبد الرحمن المدني (1) ، عن أبي حازم، عن سَهْل بن سعد، عن النبي ﷺ، قال:"وتحتَ المطَر" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2534 - صحيح
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو (دعائیں) کبھی رد نہیں ہوتیں یا (شاید فرمایا) بہت کم رد ہوتی ہیں: (1) اذان کے وقت کی دعا۔ (2) جنگ کے وقت (جبکہ گھمسان کی جنگ ہو رہی ہو) مانگی ہوئی دعا۔ ٭٭ ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بھی بیان کیا ہے کہ بارش میں مانگی ہوئی دعا بھی قبول ہوتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2566]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2566 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لجهالة رِزْق بن سعيد، كما قال الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" 1/ 369 في المجلس السابع والسبعين.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: رزق بن سعید کے "مجہول" (نا معلوم) ہونے کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: جیسا کہ حافظ ابن حجر نے "نتائج الافکار" (1/ 369، مجلس 77) میں صراحت کی ہے۔
وأخرجه أبو داود (2540) عن الحسن بن علي، عن سعيد بن أبي مريم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد نے (2540) میں حسن بن علی عن سعید بن ابی مریم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وذكر الحافظ في "نتائج الأفكار" 1/ 383 أنَّ سعيد بن منصور أخرج عن حماد بن زيد، عن الصَّقْعَب بن زهير، عن عطاء بن أبي رباح، قال: تُفتح أبواب السماء عند ثلاث خلال، فتحرَّوا فيهن الدعاء، وذكر منها: عند نزول الغيث قال الحافظ: وهو مقطوع جيّد، له حكم المرسل، لأنَّ مثله لا يُقال من قبل الرأي. قال: والصَّقعب، بوزن جعفر، ليس به بأس.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "مقطوع" ہے لیکن "جید" ہے، اور اسے "مرسل" کا حکم دیا جائے گا کیونکہ یہ معاملہ عقل و رائے سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: صقعب (بروزن جعفر) نامی راوی میں کوئی حرج نہیں (وہ ثقہ ہے)۔ 📌 اہم نکتہ: بارش کے نزول کے وقت دعا کی قبولیت کے بارے میں یہ اہم اثر ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: حافظ ابن حجر، "نتائج الافکار" (1/ 383)۔