🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
85. عليكم بالدلجة ، فإن الأرض تطوى بالليل
رات کے وقت سفر اختیار کرو کیونکہ رات میں زمین سمیٹ دی جاتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2569
أخبرَناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا إبراهيم بن يوسف الرازي، حدثنا محمود بن خالد الدمشقي، الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا سعيد بن بَشير، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ، نحوه (2) صحيح الإسناد، فإنَّ الشيخين وإن لم يخرجا حديث سعيد بن بَشير وسفيان ابن حسين، فهما إمامان بالشام والعراق، وممّن يُجمَع حديثُهما، والذي عندي أنهما اعتمدا حديث معمر على الإرسال، فإنه أرسله عن الزُّهْري (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2536 - تابعه سعيد بن بشير عن الزهري صحيح
سعید بن بشیر کی سند کے ہمراہ بھی مذکورہ حدیث مروی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اگرچہ سعید بن بشیر اور سفیان بن حسین کی روایات نقل نہیں کی ہیں لیکن یہ شام اور عراق کے امام ہیں اور ان کی احادیث کو جمع کیا جاتا ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے معمر کی ارسال والی حدیث پر اعتماد کیا ہے کیونکہ معمر نے زہری سے ارسال کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2569]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2569 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لضعف سعيد بن بشير، وقد تابعه سفيان بن حسين في الطريق التي قبله، لكنه يضعَّف في الزُّهْري، وخالفهما كبار أصحاب الزُّهْري كما قدَّمنا. ¤ ¤ وأخرجه أبو داود (2580) عن محمود بن خالد بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سعید بن بشیر کے ضعف اور سفیان بن حسین کی زہری سے روایت میں کمزوری کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔ امام زہری کے بڑے شاگردوں نے ان کی مخالفت کی ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: ابو داؤد (2580) بحوالہ محمود بن خالد۔
(1) وكذلك رواه عن الزُّهْري آخرون، كما نبَّه عليه أبو داود بإثر الحديث (2580).
🧩 متابعات و شواہد: امام زہری سے دیگر راویوں نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جیسا کہ امام ابو داؤد نے (2580) کے بعد ذکر کیا ہے۔
(2) إسناده صحيح ابن جُرَيج هو عبد الملك بن عبد العزيز المكي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن جریج سے مراد عبدالملک بن عبدالعزیز مکی ہیں۔
وأخرجه أحمد 5 / (3124)، والبخاري (4584)، ومسلم (1834)، وأبو داود (2624)، والترمذي (1672)، والنسائي (8673) و (11044) من طرق عن حجاج بن محمد بهذا الإسناد. وكلهم سمَّى الصحابيَّ عبدَ الله بن حُذافة بن قيس بن عدي إلّا أبا داود فسماه عبد الله بن قيس، كما سماه المصنف هنا منسوبًا لجده. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی اور نسائی نے حجاج بن محمد کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: تمام ائمہ نے صحابی کا نام "عبداللہ بن حذافہ" بتایا ہے سوائے امام ابو داؤد کے، جنہوں نے انہیں "عبداللہ بن قیس" کہا (جو کہ ان کے دادا کی طرف نسبت ہے)۔ امام حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی ذہنی لغزش (ذہول) ہے۔