🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

85. عَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ، فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ
رات کے وقت سفر اختیار کرو کیونکہ رات میں زمین سمیٹ دی جاتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2567
أخبرنا بكر بن محمد الصِّيرفي بمَرُو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا خالد بن يزيد العُمَري، حدثنا أبو جعفر الرازي، عن الربيع بن أنس، عن أنس، قال: قال رسول الله ﷺ:"عليكم بالدُّلْجة، فإنَّ الأرض تُطْوَى بالليل" (3) . قد كنتُ أملَيتُ في كتاب المناسِك من هذا الكتاب حديثَ رُوَيم بن يزيد المُقرئ (4) ، عن الليث، عن عُقيل عن الزُّهْري، عن أنس، وجَهِدتُ إذ ذاك أن أجِدَ له شاهدًا فلم أحد، وهذا شاهدُه إن سَلِمَ من خالد بن يزيد العُمري.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2535 - إن سلم من خالد فجيد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رات کے وقت سفر کیا کرو کیونکہ رات کے وقت زمین سمیٹ دی جاتی ہے۔ ٭٭ میں نے اس کتاب کی کتابِ مناسک الحج میں رویم بن یزید المقری کی سند کے ہمراہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث نقل کی تھی اور میں اس وقت سے اس کوشش میں تھا کہ مجھے اس کی کوئی شاہد حدیث مل جائے اور یہ حدیث اگر خالد بن یزید کے حوالے سے سلامت ہو تو اس کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2567]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2568
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد ابن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا حُصين بن نُمير، حدثنا سفيان بن حسين، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّبِ، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن أَدخل فرسًا بين فرسَين، ولا يأْمَنُ أن يَسبِقَ فليس بقِمارٍ، ومن أدخلَ فرسًا بين فرسَين، وقد أَمِنَ أن يَسبِقَ فهو قِمارٌ" (1) . تابعه سعيد بن بَشير الدمشقي عن الزُّهْري، وأقامَ إسناده:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص دو گھوڑوں کے درمیان اپنا گھوڑا داخل کرے اور اس کو اپنے جیت جانے کا پختہ یقین نہ ہو تو یہ جوا نہیں ہے اور جو شخص دو گھوڑوں کے درمیان اپنا گھوڑا داخل کرے اور اس کو اپنے جیت جانے کا سو فیصد یقین ہو تو یہ جوا ہے۔ اس حدیث کو زہری سے روایت کرنے میں سعید بن بشیر دمشقی نے سفیان بن حسین کی متابعت کی ہے اور اس کی سند کو قائم کیا ہے (جیسا کہ درجِ ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2568]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2569
أخبرَناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا إبراهيم بن يوسف الرازي، حدثنا محمود بن خالد الدمشقي، الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا سعيد بن بَشير، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ، نحوه (2) صحيح الإسناد، فإنَّ الشيخين وإن لم يخرجا حديث سعيد بن بَشير وسفيان ابن حسين، فهما إمامان بالشام والعراق، وممّن يُجمَع حديثُهما، والذي عندي أنهما اعتمدا حديث معمر على الإرسال، فإنه أرسله عن الزُّهْري (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2536 - تابعه سعيد بن بشير عن الزهري صحيح
سعید بن بشیر کی سند کے ہمراہ بھی مذکورہ حدیث مروی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اگرچہ سعید بن بشیر اور سفیان بن حسین کی روایات نقل نہیں کی ہیں لیکن یہ شام اور عراق کے امام ہیں اور ان کی احادیث کو جمع کیا جاتا ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے معمر کی ارسال والی حدیث پر اعتماد کیا ہے کیونکہ معمر نے زہری سے ارسال کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2569]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2570
أخبرني إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّيّ، حدثنا محمد بن الفَرَج الأزرق، حدثنا حجّاج بن محمد، قال: قال ابن جُرَيج: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾ [النساء:59] ، عبد الله بن قيس بن عَدِيّ بعثه النبيُّ ﷺ في سريّة. أخبرَنيهِ يَعلَى بن مسلم، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2538 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حجاج بن محمد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ابن جریج نے یہ آیت پڑھی: (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْآ اَطِیْعُوا اللّٰۃَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ) (النساء: 59) اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں اور فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن قیس بن عدی کو ایک لشکر میں بھیجا (اس وقت یہ آیت نازل ہوئی تھی)۔ ٭٭ یہ حدیث یعلیٰ بن مسلم نے سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے مجھے بتائی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2570]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2571
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالوَيهِ، حدثنا معاذ بن المثنَّى العَنبَري، حدثنا يحيى بن معين حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا سليمان ابن المغيرة، حدثنا حميد بن هلال، حدثنا بشر بن عاصم، عن عُقبة بن مالك، قال: بعث النبيُّ ﷺ سريةً فسَلّحتُ رجلًا منهم سيفًا، فلما رجعنا إلى رسول الله ﷺ لامَنا رسولُ الله ﷺ، وقال:"أعجَزْتُم إذا بعثتُ رجلًا فلم يَمْضِ لأمري، أن تَجعَلوا مكانَه مَن يَمْضِي لأمري" (3)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2539 - على شرط مسلم
سیدنا عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا، میں نے ان میں سے ایک آدمی کو ہتھیار پہنائے، جب ہم لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ملامت کرتے ہوئے فرمایا: جب میں نے ایک شخص کو تمہاری طرف بھیجا اور وہ میرے حکم کو پورا نہ کر سکا تو تم سے اتنا نہ ہو سکا کہ اس کی جگہ کسی ایسے آدمی کو مقرر کر دیتے جو میرے حکم کو پورا کر لیتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2571]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں