المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
119. من خرج من الجماعة قيد شبر فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه حتى يراجعه
جو شخص جماعت سے بالشت بھر بھی الگ ہوا اس نے اپنے گلے سے اسلام کا پٹہ اتار دیا یہاں تک کہ واپس لوٹ آئے۔
حدیث نمبر: 262
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، حدثنا أبو المثنَّى ومحمد بن أيوب قالا: حدثنا مسدَّد، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا حُمَيد، عن أنس قال: دخلتُ على عُبيد الله بن زياد وهم يتراجعون في ذِكْر الحوض، قال: فقال: جاءكم أنسٌ، قال: يا أنسُ، ما تقولُ في الحوض؟ قال: قلت: ما حَسِبتُ أني أعيشُ حتى أَرى مِثلَكم يَمتَرُونَ في الحوض، لقد تركتُ بعدي عجائزَ ما تُصلي واحدةٌ منهن صلاةً إلّا سألت ربَّها أن يُورِدَها حوضَ محمد ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله عن حُميد شاهد صحيح على شرطهما:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله عن حُميد شاهد صحيح على شرطهما:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس گیا جبکہ وہ (اپنے ساتھیوں کے ساتھ) حوضِ کوثر کے تذکرے پر تکرار کر رہے تھے، اس نے کہا: تمہارے پاس انس (رضی اللہ عنہ) آ گئے ہیں، پھر پوچھا: اے انس! آپ حوض کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا: میں نے یہ گمان بھی نہیں کیا تھا کہ میں اتنی دیر زندہ رہوں گا کہ تم جیسے لوگوں کو حوض کے بارے میں شک و تکرار کرتے دیکھوں گا، میں نے اپنے پیچھے ایسی بوڑھی عورتوں کو چھوڑا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جو نماز پڑھے اور اپنے رب سے یہ سوال نہ کرے کہ وہ اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض پر پہنچائے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 262]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 262]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 262 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه الحسين المروزي في زياداته على "زهد ابن المبارك" (1609)، والآجري في "الشريعة" ¤ ¤ (838)، والبيهقي في "البعث والنشور" (158) من طريقين عن حميد الطويل، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے حسین المروزی نے "زہد ابن المبارک" کی زیادات (1609) میں، آجری نے "الشریعہ" (838) میں اور بیہقی نے "البعث والنشور" (158) میں حمید الطویل کے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 10/ 449، وابن أبي عاصم في "السنة" (698)، وأبو يعلى (3355) من طريق ثابت البناني، عن أنس. وانظر "مسند أحمد" 21/ (13405).
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (ج10، ص 449)، ابن ابی عاصم نے "السنہ" (698) اور ابو یعلیٰ نے (3355) میں ثابت البنانی عن انس رضی اللہ عنہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: مزید تفصیل کے لیے "مسند احمد" (ج21، حدیث 13405) ملاحظہ فرمائیں۔