المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. كان رسول الله لا يسأل شيئا إلا أعطاه أو سكت
سیدنا رسول اللہ ﷺ سے جو چیز بھی مانگی جاتی یا تو عطا فرما دیتے یا خاموش رہتے
حدیث نمبر: 2625
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، عن بشر بن المُفضَّل، حدثنا محمد بن زيد - هو ابن مُهاجِر الأنصاري - حدثني عُمير مولى آبي اللَّحْم، قال: شهدتُ خيبرَ (1) مع سادتي، فكلَّموا فيَّ رسولَ الله ﷺ، فأَمَرني فقُلِّدتُ سيفًا، فأخبر أني مملوكٌ، فأمَرَ لي بشيءٍ من خُرْثيِّ المَتاعِ (2) . حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2592 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2592 - صحيح
سیدنا ابولحم رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں اپنے آقا کے ہمراہ غزوہ حنین میں شریک ہوا بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے میرے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: تو میں نے ایک تلوار اٹھا لی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ میں غلام ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان میں سے ایک معمولی سی چیز لینے کا حکم دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2625]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2625 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّفت في النسخ الخطية إلى: حنين، من غير نصب بالألف، لكن وضع فوقها في (ز) تنوين فتح، فكأنها كانت في الأصل خيبر، ثم أثبتها بعض النُّسَّاخ: حُنين، ظنًّا منه أنَّ الراء التي في آخرها نون، وأنها تكتب على صورة المرفوع على لغة ربيعة، والصحيح أنها خيبر، كما في "تلخيص المستدرك" للذهبي، ويؤيده أنَّ الحديث في "مسند أحمد" (36/ 21940) وعنه أبو داود (2730) بذكر خيبر.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں لفظ "خیبر" تحریف ہو کر "حنین" ہو گیا ہے (بغیر نصب کے)۔ لیکن نسخہ (ز) میں اس پر دو زبر (تنوئین) دی گئی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل میں یہ لفظ "خیبر" ہی تھا۔ بعض کاتبین نے اسے "حنین" اس گمان میں لکھ دیا کہ آخری حرف 'ر' دراصل 'ن' ہے (لغتِ ربیعہ کے مطابق)۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ "خیبر" ہے، جیسا کہ امام ذہبی کی "تلخیص المستدرک" میں ہے، اور اس کی تائید مسند احمد (36/ 21940) اور ابو داود (2730) سے بھی ہوتی ہے جہاں خیبر کا ہی ذکر ہے۔
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وهو في "مسند أحمد" (36/ 21940)، وأخرجه عنه أبو داود (2730).
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت مسند احمد (36/ 21940) میں موجود ہے اور ابو داود نے (2730) میں امام احمد کے واسطے سے اسے نقل کیا ہے۔
وقد تقدم برقم (1239) من طريق قتيبة بن سعيد عن بشر بن المُفضَّل.
📖 حوالہ / مصدر: یہ پہلے رقم (1239) پر قتیبہ بن سعید عن بشر بن مفضل کے طریق سے گزر چکی ہے۔