🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. دعاؤه ﷺ في حق أهل بدر
اہلِ بدر کے حق میں سیدنا رسول اللہ ﷺ کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2629
أخبرني الأستاذ أبو الوليد حسان بن محمد الفقيه، حدثنا أبو بكر بن أبي داود، حدثنا أحمد بن صالح المصري، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثني حُيَيّ، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرو: أنَّ رسول الله ﷺ خرج يومَ بدرٍ في ثلاث مئة وخمسةَ عشرَ، فقال رسول الله ﷺ:"اللهم إنهم حُفاةٌ، فاحْمِلْهم، اللهم إنهم عُراةٌ، فاكْسُهم، اللهم إنهم جِياعٌ، فأشبِعْهم"، ففتح الله له يومَ بدر، فانقَلَبوا حين انقَلَبوا وما فيهم رجلٌ إلّا وقد رجعَ بجمَلٍ أو جمَلَين، فاكتَسَوا وشَبِعُوا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد اتفق الشيخان على الاحتجاج بأبي عبد الرحمن المَذْحِجي (1) مولى سليمان بن عبد الملك.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2596 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ بدر کو روانہ ہوئے تو آپ کے ہمراہ 315 مجاہدین تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے یوں دعا مانگی یا اللہ یہ ننگے پاؤں ہیں تو ان کو جوتے عطا کر دے، یا اللہ یہ ننگے بدن ہیں تو ان کو لباس عطا کر دے، یا اللہ یہ بھوکے ہیں تو ان کو سیر کر دے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا قبول ہوئی) اللہ تعالیٰ نے میدانِ بدر میں ان کو فتح عطا فرمائی، جب وہ لوگ لوٹ کر آئے تو ہر شخص کے پاس ایک ایک یا دو دو اونٹ تھے سب کو لباس بھی ملا اور سب سیر بھی ہو گئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سلیمان بن عبدالملک کے غلام ابوعبدالرحمان المذحجی کی روایات نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2629]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2629 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده حسن كما قال الحافظ في "فتح الباري" 12/ 32، وحُيَي - وهو ابن عبد الله المَعافِري - مختلف فيه، ضعَّفه البخاري، وليَّنه أحمد والنسائي، وقال ابن معين وابن عدي: لا بأس به، ¤ ¤ وقال الذهبي في "تاريخ الإسلام" 3/ 853: صالح الحديث. وحسَّن الترمذي له حديثًا، وصحَّح له ابن حبان وأبو عوانة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" (12/ 32) میں فرمایا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کا راوی حُیَی بن عبد اللہ المعافری مختلف فیہ ہے؛ امام بخاری نے انہیں ضعیف کہا، امام احمد اور نسائی نے ان کے حق میں نرمی (لیّن) اختیار کی، جبکہ ابن معین اور ابن عدی نے کہا کہ "اس میں کوئی حرج نہیں"۔ امام ذہبی نے "تاریخ الاسلام" (3/ 853) میں انہیں "صالح الحدیث" (درست حدیث والا) کہا۔ امام ترمذی نے ان کی ایک حدیث کو حسن اور ابن حبان و ابو عوانہ نے صحیح قرار دیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (2747) عن أحمد بن صالح، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود نے (2747) میں احمد بن صالح کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (2674) من طريق يحيى بن سليمان الجُعفي، عن عبد الله بن وهب.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت آگے رقم (2674) پر یحییٰ بن سلیمان الجعفی عن عبد اللہ بن وہب کے طریق سے آئے گی۔
وانظر كلام الحافظ في الجمع بين الروايات الواردة في عدة أهل بدر في "فتح الباري" 12/ 31 - 32.
📝 نوٹ / توضیح: اہل بدر کی تعداد کے بارے میں وارد مختلف روایات میں مطابقت (جمع) کے لیے حافظ ابن حجر کا کلام "فتح الباری" (12/ 31-32) میں ملاحظہ کریں۔
(1) كذا قال الحاكم ﵀، وهو يقصد بذلك حُيَيًّا، وهو وهمٌ منه كما قدَّمنا بيانه بإثر الحديث (273)، لأنَّ حُيَيًّا هذا هو ابن عبد الله المَعافِري.
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام حاکم رحمہ اللہ نے ایسا ہی کہا ہے اور ان کی مراد "حُیَی" ہیں، لیکن یہ ان کا وہم ہے جیسا کہ ہم نے حدیث (273) کے بعد واضح کیا تھا کہ یہ "حُیَی بن عبد اللہ المعافری" ہیں۔