🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. النهي عن بيع المغانم حتى تقسم وعن الحبالى حتى يضعن ما فى بطونهن
غنیمت کے مال کو تقسیم سے پہلے بیچنے اور حاملہ عورتوں کو بچے کی پیدائش سے پہلے بیچنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2649
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مَهدي بن رُستُم، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا أبي، قال: سمعت عبد الله بن مَلَاذٍ يحدّث عن نُمير بن أوس، عن مالك بن مَسرُوح، عن عامر بن أبي عامر الأشعري، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ:"نِعمَ الحيُّ الأَسْدُ والأشعرِيّون، لا يَفِرُّون في القتال، ولا يُخِلّون، هم مني وأنا منهم". قال: فحدّثتُ به معاوية، فقال: ليس هكذا، إنما قال رسول الله ﷺ:"هم مني وإليّ"، فقلتُ: ليس هكذا حدثني أبي، ولكن حدثني أنه قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"هم مني وأنا منهم"، قال: فأنت إذًا أعلمُ بحديثِ أبيك (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2616 - صحيح
سیدنا ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بہترین قبیلہ بنی اسد اور اشعری ہیں، نہ یہ جنگ سے بھاگتے ہیں نہ الگ ہوتے ہیں، یہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔ عامر فرماتے ہیں: میں نے یہی حدیث معاویہ سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: یوں نہیں۔ بلکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ھُمْ مِنِّیْ وَاِلَیَّ میں بولا: میرے والد نے ایسے روایت بیان نہیں کی بلکہ ان کا کہنا تو یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ھُمْ مِنِّیْ وَاَنَّا مِنْھُم فرمایا ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بولے: ٹھیک ہے، میری بہ نسبت اپنے والد کی روایات کو تم زیادہ بہتر جانتے ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2649]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2649 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لجهالة عبد الله بن مَلاذٍ ومالك بن مسروح. جرير: هو ابن حازم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عبد اللہ بن ملاذ اور مالک بن مسروح کی جہالت (ناواقفیت) کی وجہ سے ضعیف ہے۔ سند میں موجود "جریر" سے مراد جریر بن حازم ہیں۔
وأخرجه أحمد (28/ 17166) و (29/ 17501) عن وهب بن جرير، والترمذي (3947) عن إبراهيم بن يعقوب وغير واحد، عن وهب بن جرير، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (28/ 17166، 29/ 17501) نے وہب بن جریر سے، اور ترمذی (3947) نے ابراہیم بن یعقوب وغیرہ کے واسطے سے وہب بن جریر کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
والأسْد، بسكون السين هم الأزْد، يقال بالزاي وبالسين.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "الأسْد" (س کے سکون کے ساتھ) سے مراد قبیلہ "الأزْد" ہے، اسے زاء (ازد) اور سین (اسد) دونوں کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔
وقوله: "لا يُخلّون" كذلك جاء في نسخنا الخطية من "المستدرك"، وهو إما أن يكون من: أخلّ بالمكان: إذا غاب عنه وتركه، يعني أنهم لا يغيبون في المَشاهِد، أو من: أخلَّ؛ أي: افتَقَر، يعني أنهم لا يَفتَقِرون، لأنهم يُواسُون بعضهم بعضًا عند فناء أزوادهم أو قلّتها، ويقتسمون أرزاقهم، ويؤيد هذا المعنى الثاني حديث أبي موسى الأشعري عند البخاري (2486)، ومسلم (2500) قال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ الأشعريين إذا أَرْمَلُوا في الغزو أو قلّ طعام عيالهم بالمدينة، جمعوا ما كان عندهم في ثوبٍ واحدٍ، ثم اقتسموا بينهم في إناءٍ واحدٍ بالسَّوِيَّة، فهم مني وأنا منهم".
📝 نوٹ / توضیح: حدیث کے الفاظ "لا يُخلّون" ہمارے قلمی نسخوں میں اسی طرح ہیں۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں: (1) وہ میدانِ جنگ سے غائب نہیں ہوتے۔ (2) وہ کبھی محتاج (فقیر) نہیں ہوتے، کیونکہ جب زادِ راہ ختم ہو جائے تو وہ آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔ 🧩 متابعات و شواہد: دوسرے معنی کی تائید حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی بخاری (2486) اور مسلم (2500) والی حدیث سے ہوتی ہے کہ "اشعری لوگ جب غزوے میں تنگ دست ہو جاتے تو اپنا سارا سامان ایک کپڑے میں جمع کر کے برابر تقسیم کر لیتے تھے، وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں"۔
ووقع عند سائر من خرَّج الحديث غير المصنف: يَغُلُّون، بدل: يُخلّون؛ من الغُلول من الغنيمة، والله تعالى أعلم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف کے علاوہ دیگر تمام محدثین کے ہاں "يُخلّون" کے بجائے "يَغُلُّون" (غین کے ساتھ) آیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ مالِ غنیمت میں خیانت (غلول) نہیں کرتے۔ واللہ اعلم۔