🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. النهي عن بيع المغانم حتى تقسم وعن الحبالى حتى يضعن ما فى بطونهن
غنیمت کے مال کو تقسیم سے پہلے بیچنے اور حاملہ عورتوں کو بچے کی پیدائش سے پہلے بیچنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2650
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا أيوب بن سُوَيد، حدثنا عبد الله بن شَوذَب، عن عامر بن عبد الواحد، عن عبد الله بن بُريدة الأسلمي، عن عبد الله بن عَمرو، قال: كان النبي ﷺ إذا أصابَ غنيمةً أمر بلالًا فنادى ثلاثًا، فيرفعُ الناسُ ما أصابُوا، ثم يأمُر به فيُخمَّس، فأتاهُ رجلٌ بزِمَامٍ من شَعر، وقد قُسمتِ الغَنيمةُ، فقال له:"هل سمعتَ بلالًا ينادي ثلاثًا؟" قال: نعم، قال:"فما مَنَعَك أن تأتيَ به؟" فاعتَذَر إليه، فقال له:"كن أنت الذي تُوافي به يومَ القيامة، فإني لن أقبلَه منك" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2617 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی یہ عادت تھی کہ) مالِ غنیمت آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے وہ لوگوں میں اعلان کر دیا کرتے تھے تو لوگ اپنے پاس (غنیمت کا) موجود مال لے آتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے تو اس کو پانچ حصوں میں تقسیم کر دیا جاتا۔ پھر اس کے بعد (اگر) کوئی شخص بالوں کی بٹی ہوئی رسّی (بھی) لے آتا لیکن مال تقسیم ہو چکا ہوتا تو آپ علیہ السلام اس سے فرماتے: بلال نے تین مرتبہ اعلان کیا، کیا تم نے سنا تھا؟ وہ کہتا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: تو پھر تجھے مال میرے پاس پیش کرنے سے کس نے منع کیا تھا؟ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی معذرت کرتا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: اب تو قیامت کے دن یہ لے کر آئے گا، میں یہ تجھ سے ہرگز قبول نہیں کروں گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2650]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2650 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب بن سُويد، لكنه لم ينفرد به، فقد توبع فيما تقدَّم برقم (2615)، وعامر بن عبد الواحد صدوق حسن الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اگرچہ یہ سند ایوب بن سوید کے ضعف کی وجہ سے کمزور ہے، لیکن وہ اس میں تنہا نہیں ہیں، بلکہ رقم (2615) پر ان کی تائید موجود ہے، اور عامر بن عبد الواحد "صدوق" (سچے) ہیں جن کی حدیث حسن ہوتی ہے۔