المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. النهي عن بيع المغانم حتى تقسم وعن الحبالى حتى يضعن ما فى بطونهن
غنیمت کے مال کو تقسیم سے پہلے بیچنے اور حاملہ عورتوں کو بچے کی پیدائش سے پہلے بیچنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 2651
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق الخراساني ببغداد، حدثنا إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حدثنا الهيثم بن جَميل، حدثنا مُبارك بن فَضَالة، عن عُبيد الله (2) بن عمر، عن سعيد المقبُري، قال: سمعت أبا هريرة، وكنت جالسًا عنده، فقال أبو هريرة: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ نبيًّا من الأنبياء قاتَلَ أهلَ مدينةٍ، حتى إذا كاد أن يَفتَتحَها خشيَ أن تَغرُبَ الشمسُ، فقال لها: أيّتها الشمسُ، إنك مأمُورةٌ وأنا مأمُورٌ، بحُرْمتي عليكِ إلّا رَكَدْتِ ساعةً من النهار. قال: فحَبَسها الله حتى افتتح المدينة. وكانوا إذا أصابُوا الغنائمَ قَرَّبوها في القُربان، فجاءتِ النارُ فأكلتْها، فلما أصابوا وَضَعُوا القُربان، فلم تجيءِ النارُ تأكلُه، فقالوا: يا نبيَّ الله، ما لنا لا يُقبلُ قُربانُنا؟ قال: فيكم غُلول، قالوا: وكيف لنا أن نعلمَ مَن عنده الغُلُول؟ قال: وهم اثنا عشر سِبْطًا، قال: يُبايِعُني رأسُ كل سِبْطٍ منكم، فبايَعَه رأسُ كلِّ سِبْطٍ" قال:"فَلَزِقَت كفُّ النبي بكفِّ رجل منهم، فقال له: عندك الغُلول، فقال: كيف لي أن أعلمَ عند أي سِبْطٍ هو؟ قال: تدعو سِبْطك فتبايعُهم رجلًا رجلًا، قال: ففعل، فلزِقَتْ كفُّه بكفِّ رجلٍ منهم، قال: عندك الغُلول؟ قال: نعم، عندي الغُلول، قال: وما هو؟ قال: رأسُ ثورٍ من ذهب أعجبَني، فغلَلْتُه، فجاء به فوضعه في الغنائم، فجاءتِ النارُ فأكلتْه". فقال كعب: صدق اللهُ ورسولُه، هكذا واللهِ في كتاب الله - يعني في التوراة - قال: يا أبا هريرة، أحدَّثكُم النبي ﷺ أيَّ نبي كان؟ قال: لا، قال كعب: هو يُوشَع بن نُون، قال: فحدَّثكُم أيُّ قرية هي؟ [قال: لا] (1) قال: هي مدينة أَريحا (2) .
هذا حديث غريب صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2618 - صحيح غريب
هذا حديث غريب صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2618 - صحيح غريب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کے ایک نبی نے ایک شہر والوں سے جہاد کیا۔ جب فتح کے آثار قریب تھے، اس وقت سورج بھی بالکل غروب ہونے کو تھا، انہوں نے سورج سے فرمایا: اے سورج تو بھی اللہ کے حکم کا پابند ہے اور میں بھی حکم خدا کا پابند ہوں۔ تجھے میری عزت کا واسطہ تھوڑی دیر کے لیے رُک جا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سورج کو اسی مقام پر روک دیا، یہاں تک کہ وہ شہر فتح ہو گیا۔ (اور ان لوگوں کی عادت تھی کہ) جو مالِ غنیمت ان کے ہاتھ لگتا، اس میں سے اللہ کی راہ میں قربانی پیش کیا کرتے تھے۔ پھر آگ آ کر اس کو کھا جایا کرتی تھی، اس دن جو مالِ غنیمت ان کے ہاتھ لگا، انہوں نے قربانی رکھی لیکن اس کو کھانے کے لیے آگ نہ آئی۔ لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی: کیا وجہ ہے؟ ہماری قربانی قبول نہیں کی گئی؟ اللہ کے نبی نے جواب دیا: اس لیے کہ تمہارے اندر کوئی خائن شخص موجود ہے۔ لوگوں نے کہا: ہمیں کیسے پتہ چلے کہ کس کے پاس خیانت کا مال ہے؟ (آپ نے فرمایا) وہ لوگ بارہ قبیلے تھے، اللہ کے نبی نے فرمایا: تمہارے ہر قبیلہ کا سردار میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔ چنانچہ قبیلوں کے سرداروں نے آپ کی بیعت کی۔ اللہ کے نبی کی ہتھیلی ایک سردار کی ہتھیلی کے ساتھ چپک گئی، اللہ کے نبی نے فرمایا: تیرے قبیلے والوں کے پاس خیانت کا مال ہے۔ اس نے کہا: مجھے یہ کیسے پتہ چلے گا کہ میرے قبیلے کے کون سے شخص کے پاس خیانت کا مال ہے؟ اللہ کے نبی نے فرمایا: اپنے قبیلے کے ایک ایک شخص کو بلا کر اس سے بیعت لو۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ سردار کی ہتھیلی، ان میں سے ایک آدمی کی ہتھیلی کے ساتھ چپک گئی، (سردار نے) اس سے کہا: تیرے پاس خیانت کا مال موجود ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ (سردار نے) پوچھا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: سونے کی ایک ڈلی ہے، مجھے مالِ غنیمت میں پسند آئی تو میں نے اٹھا لی، اس نے وہ منگوا کر مالِ غنیمت میں رکھی تو آگ فوراً آ کر اسے کھا گئی۔ کعب بولے: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے۔ خدا کی قسم! اللہ کی کتاب توراۃ میں بھی ایسے ہی حکم موجود ہیں، پھر سیدنا کعب نے کہا: اے ابوہریرہ! کیا تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا کہ اللہ کے یہ نبی کون تھے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں۔ کعب نے کہا: وہ سیدنا یوشع بن نون علیہ السلام تھے۔ پھر انہوں نے پوچھا: کیا تمہیں یہ بتایا کہ وہ علاقہ کونسا تھا؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں۔ کعب نے کہا: یہ ” اریحاء “ شہر تھا۔ ٭٭ یہ حدیث غریب صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2651]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2651 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في (ز): عبد الله، بالتكبير، وهو خطأ، والمثبت من (ص) و (ب) و (ع)، هو الموافق لسائر من خرَّج الحديث من طريق مبارك بن فَضالة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) میں "عبد اللہ" لکھا ہے جو کہ غلط ہے، جبکہ صحیح لفظ "عبید اللہ" (تصغیر کے ساتھ) ہے جیسا کہ نسخہ (ص، ب، ع) اور مبارک بن فضالہ کے دیگر تمام شاگردوں کی روایات میں موجود ہے۔
(1) عبارة: "قال: لا" ليست في النسخ الخطية، وثبتت لجميع من خرَّج الحديث غير المصنف، ولا بد منها لدفع توهم الرفع في قوله بعدها: هي مدينة أريحا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: جملہ "قال: لا" (انہوں نے کہا: نہیں) ہمارے قلمی نسخوں میں نہیں ہے، لیکن دیگر تمام محدثین کے ہاں ثابت ہے۔ اس جملے کا ہونا ضروری ہے تاکہ اس وہم کو دور کیا جا سکے کہ بعد والا جملہ "یہ اریحا شہر ہے" مرفوع (نبی ﷺ کا قول) ہے، جبکہ وہ راوی کا اپنا قول ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لولا عنعنة مبارك بن فَضَالة - وهو البصري - وقد تابعه محمد بن عجلان، فتُغتفَر بذلك عنعنته إن شاء الله، وروي الحديث من وجه آخر عن أبي هريرة كما سيأتي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اگر مبارک بن فضالہ بصری کی "عنعنہ" (سماع کی صراحت نہ ہونا) نہ ہوتی تو یہ سند حسن تھی، لیکن چونکہ محمد بن عجلان نے ان کی متابعت (تائید) کر دی ہے، اس لیے ان کا عنعنہ قابلِ معافی ہے اور ان شاء اللہ روایت ثابت ہے۔ نیز یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دوسرے طریق سے بھی مروی ہے جو آگے آئے گی۔
وأخرجه البزار (8458) من طريق أبي همام محمد بن الزِّبْرقان والطبراني في "الأوسط" (6600) من طريق سعيد بن سليمان الواسطي، كلاهما عن مبارك بن فضالة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بزار (8458) نے ابوہما م محمد بن زبرقان کے طریق سے اور طبرانی نے "الاوسط" (6600) میں سعید بن سلیمان الواسطی کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں مبارک بن فضالہ کی اسی سند سے نقل کرتے ہیں۔
وأخرجه أبو سعيد النقَّاش في "فنون العجائب" (66)، والخطيب البغدادي في "الأسماء المبهمة" ص 332 من طريق محمد بن عجلان، عن سعيد المقبري، به وإسناده قوي.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوسعید النقاش اور خطیب بغدادی نے محمد بن عجلان عن سعید المقبری کی سند سے روایت کیا ہے اور اس کی سند "قوی" ہے۔
وأخرجه بنحوه دون قصة كعب - وهو كعب بن ماتِع الحِمْيَري، المعروف بكعب الأحبار - أحمد (13/ 8238)، والبخاري (3124)، ومسلم (1747)، وابن حبان (4808) من طريق همام بن مُنبِّه، والنسائي (8827)، وابن حبان (4807) من طريق سعيد بن المسيب، كلاهما عن أبي هريرة. وزاد ابن المسيب في روايته وكذا همام بنحوه: فقال رسول الله ﷺ عند ذلك: "إنَّ الله أطعمنا الغنائم رحمةً رحمنا بها وتخفيفًا خففه عنا، لما عَلِمَ من ضعفنا".
🧾 تفصیلِ روایت: کعب الاحبار کے قصے کے بغیر اسے امام احمد، بخاری (3124)، مسلم (1747) اور ابن حبان نے ہمام بن منبہ کے طریق سے، اور نسائی و ابن حبان نے سعید بن مسیب کے طریق سے (دونوں نے حضرت ابوہریرہ سے) روایت کیا ہے۔ سعید بن مسیب اور ہمام کی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر فرمایا: "بے شک اللہ نے غنیمتوں کو ہمارے لیے حلال کر دیا، یہ اس کی رحمت اور تخفیف ہے جو اس نے ہماری کمزوری کو جانتے ہوئے ہم پر فرمائی"۔
قوله: "رَكَدْتِ" أي: سكنْتِ ولم تجري.
📝 نوٹ / توضیح: حدیث کے لفظ "رَکَدْتِ" کا معنی ہے: "تو رک گیا اور تو نے چلنا بند کر دیا (ساکن ہو گیا)"۔
والسِّبْط: واحد الأسباط، وهم في أولاد إسحاق بن إبراهيم الخليل، بمنزلة القبائل في ولد إسماعيل.
📝 نوٹ / توضیح: "السِّبط" لفظ "الاسباط" کا واحد ہے؛ حضرت اسحاق بن ابراہیم علیہما السلام کی اولاد میں یہ اسی طرح (خاندان کے لیے) ہے جیسے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں "قبیلہ" کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔