المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
17. دعاؤه صلى الله عليه وآله وسلم إذا خاف قوما
سیدنا رسول اللہ ﷺ کی دعا جب آپ کو کسی قوم سے خطرہ ہوتا
حدیث نمبر: 2662
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثني محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ كان يدعو فيقول:"اللهم أمتِعْني بسمْعي وبصري، واجعلْهما الوارثَ منّي، اللهم انصُرْني على عدوِّي، وأرِني فيه ثأْري" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2630 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2630 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: (اَللّٰھُمَّ اَمْتِیْنِیْ بِسَمْعشیْ وَبَصَرِیْ، وَاجْعَلْھُمَا الْوَارِثَ مِنِّیْ، اَللّٰھُمَّ انْصُرْنِیْ عَلٰی عَدُوِّیْ، وَاَرِنِیْ فِیْہِ ثَأْرِی) اے اللہ! مجھے میرے بصارت اور سماعت سے فائدہ دے اور ان کو میرا وارث بنا دے اے اللہ! میرے دشمن کے خلاف میری مدد فرما اور ان میں میرے خون کا طلبگار مجھے دکھا دے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2662]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2662 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند محمد بن عمرو بن علقمہ لیثی کی وجہ سے "حسن" درجے کی ہے۔
وقد تقدم برقم (1939) من طريق عبد الرحمن المحاربي عن محمد بن عمرو.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت پہلے نمبر (1939) پر گزر چکی ہے جہاں عبدالرحمن محاربی نے اسے محمد بن عمرو کے واسطے سے نقل کیا ہے۔