🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. تستأمر اليتيمة في نفسها
یتیم لڑکی سے اس کے معاملے میں اجازت لی جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2736
أخبرَناه الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، حدثنا محمد بن عمرو. وحدثنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا عمرو بن علي، حدثنا المعتمِر، قال: سمعت محمد بن عمرو يُحدّث عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، أنَّ النبي ﷺ قال:"تُستأمَرُ اليتيمةُ في نفسها، فإن سَكَتَت فهو رضاها، وإن أبَتْ فلا جَوازَ عليها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یتیم لڑکی سے (نکاح کے معاملے میں) اس کی رائے لی جائے گی، پس اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی رضا مندی ہے، اور اگر وہ انکار کر دے تو اس پر زبردستی جائز نہیں ہے۔ امام حاکم فرماتے ہیں: یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، مگر شیخین نے اسے تخریج نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2736]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2736 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "صحیح لغیرہ" ہے اور محمد بن عمرو (ابن علقمہ لیثی) کی وجہ سے یہ اسناد "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 12/ (7527) عن عبد الواحد بن واصل الحداد، وأبو داود (2093) من طريق يزيد بن زُريع، ومن طريق حماد بن سلمة، والترمذي (1109) من طريق عبد العزيز بن محمد الدَّرَاوَرْدي، والنسائي (5360) من طريق يحيى القطان، خمستهم عن محمد بن عمرو، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (12/ 7527) نے عبد الواحد بن واصل الحداد سے، ابوداؤد (2093) نے یزید بن زریع اور حماد بن سلمہ کے واسطے سے، ترمذی (1109) نے الدراوردی کے واسطے سے اور نسائی (5360) نے یحیی القطان کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ یہ پانچوں ائمہ محمد بن عمرو سے اسے روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه البخاري (5136)، ومسلم (1419)، وأبو داود (2092)، وابن ماجه (1871)، والترمذي (1107)، والنسائي (5357) من طريق يحيى بن أبي كثير، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، بلفظ: "لا تُنكح الأيِّم حتَّى تُستأمَر، ولا تُنكح البكرُ حتى تُستأذَن" قالوا: يا رسول الله، وكيف إذنُها؟ قال: "أن تسكت".
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (5136)، مسلم (1419)، ابوداؤد (2092)، ابن ماجہ (1871)، ترمذی (1107) اور نسائی (5357) نے یحیی بن ابی کثیر عن ابی سلمہ عن ابی ہریرہ کی سند سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: "کسی ایّم (بیوہ یا مطلقہ) کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس سے حکم (واضح الفاظ میں) نہ لے لیا جائے، اور کسی کنواری کا نکاح اس وقت تک نہ ہو جب تک اس کی اجازت نہ لے لی جائے"۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس کی اجازت (خاموشی کی صورت میں) کیسے معلوم ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "اس کا خاموش رہنا (ہی اس کی اجازت ہے)"۔
ويشهد للفظ محمد بن عمرو حديث أبي موسى الأشعري الذي قبله، ويشهد لمعناه حديث ابن عمر الذي بعده.
🧩 متابعات و شواہد: محمد بن عمرو کی روایت کے مخصوص الفاظ کی تائید اس سے پہلی روایت (حضرت ابو موسیٰ اشعری کی حدیث) سے ہوتی ہے، جبکہ اس کے معنی کی تائید حضرت ابن عمر کی اگلی روایت سے ہوتی ہے۔
وكذا يشهد لمعناه حديث ابن عباس عند أحمد 4/ (2469)، وأبي داود (2096)، وابن ماجه (1875)، والنسائي (5366)، وإسناده صحيح.
🧩 متابعات و شواہد: اسی طرح اس کے معنی کی تائید امام احمد (4/ 2469)، ابوداؤد (2096)، ابن ماجہ (1875) اور نسائی (5366) میں موجود حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے ہوتی ہے، جس کی سند "صحیح" ہے۔
وقوله: "لا جَوازَ عليها" أي: لا ولاية عليها مع الامتناع.
📝 نوٹ / توضیح: "لا جَوازَ عليها" کا علمی مطلب یہ ہے کہ اگر عورت نکاح سے انکار کر دے تو اس پر (زبردستی نکاح کی) کوئی ولایت یا نفاذِ حکم باقی نہیں رہتا۔