المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
17. لا تنكحوا النساء حتى تستأمروهن
عورتوں کا نکاح ان سے اجازت لیے بغیر نہ کرو
حدیث نمبر: 2737
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حدثنا ابن أبي فُدَيك، عن ابنِ أبي ذئب، عن عمر بن حسين، عن نافع، عن ابن عمر: أنه تزوج ابنةَ خاله عثمان بن مَظْعُون، قال: فذهبتْ أمُّها إلى النبي ﷺ، فقالت: إنَّ ابنتي تَكْرَه والله، فأمره رسول الله ﷺ أن يُفارقها، ففارَقَها، وقال:"لا تُنكِحُوا النساءَ حتى تَستأمروهُنّ، فإذا سَكتْنَ فهو إذنُهُنَّ". فتزوّجها بعدَ عبدِ الله المغيرةُ بن شُعبة (1) .
هذا حديث كبيرٌ صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2703 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث كبيرٌ صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2703 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، انہوں نے اپنے ماموں عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کیا، (ابن عمر رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: اس کی والدہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ! میری بیٹی کو یہ شادی پسند نہیں ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ اس کو جدا کر دو۔ تو (ابن عمر رضی اللہ عنہما نے) اس کو اس سے الگ کر دیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کا نکاح کرنے سے پہلے ان کی رائے لے لیا کرو، اگر وہ خاموش رہیں تو یہ اجازت ہے۔ چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بعد اس نے مغیرہ بن شعبہ سے شادی کی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2737]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2737 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. ابن أبي فُديك: هو محمد بن إسماعيل بن مسلم بن أبي فُديك، وابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة، وعمر بن حسين: هو ابن عبد الله الجُمحي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راویوں کی تحقیق درج ذیل ہے: ابن ابی فدیک سے مراد محمد بن اسماعیل ہیں، ابن ابی ذئب سے مراد محمد بن عبد الرحمن ہیں، اور عمر بن حسین سے مراد ابن عبد اللہ الجمحی ہیں۔
وأخرجه أحمد 10/ (6136) من طريق محمد بن إسحاق، حدثني عمر بن حسين به. ولفظ المرفوع عنده: "هي يتيمة، ولا تُنكَح إلّا بإذنها".
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (10/ 6136) میں محمد بن اسحاق عن عمر بن حسین کے طریق سے روایت کیا ہے، جس میں مرفوع الفاظ یہ ہیں: "وہ یتیمہ ہے، اور اس کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہیں کیا جائے گا"۔
وأخرجه ابن ماجه (1878) من طريق عبد الله بن نافع، عن أبيه، عن ابن عمر، بنحوه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ماجہ (1878) نے عبد اللہ بن نافع عن ابیہ (نافع) عن ابن عمر کے طریق سے اسی کے مانند روایت کیا ہے۔