المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. عقد النكاح إلى الأولياء دونهن
عقدِ نکاح عورتوں کے بجائے ان کے اولیاء کے اختیار میں ہے
حدیث نمبر: 2753
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرني سعيد، عن قَتَادة، عن الحسن. وأخبرني أبو أحمد الحسين بن علي التميمي - واللفظُ له - حدثنا أبو بكر محمد بن إسحاق، حدثنا أحمد بن حفص بن عبد الله، حدثني أبي، حدثني إبراهيم بن طَهْمان، عن يونس بن عُبيد، عن الحسن في قول الله ﷿: ﴿فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ﴾ [البقرة: 232] ، قال: حدثني مَعقِل بن يَسارٍ المُزني: أَنها نَزَلت فيه، قال: كنتُ زوَّجتُ أختًا لي من رجلٍ، فطلَّقها، حتَّى إذا انقَضَت عِدّتُها جاءَ يَخطُبها، فقلت له: زوَّجتُك وفَرَشْتُك وأكرمتُك، فطلَّقتَها، ثم جئتَ تخطُبها؟! لا والله لا تعودُ إليها أبدًا، قال: وكان رجلًا لا بأس به، وكانت المرأةُ تريد أن تَرجِع إليه، قال: فأنزل اللهُ هذه الآية، فقلتُ: الآنَ أفعَلُ يا رسول الله، فزوَّجْتُها إياه (1) . قال أبو بكر محمد بن إسحاق: في هذا الحديث دلالة واضحة على أنَّ الله ﷿ جعلَ عقدَ النكاح إلى الأولياء دونَهن، وأنه ليس إلى النساء وإن كُنَّ ثَيِّباتٍ مِن العقدِ شيءٌ.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجه مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2719 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجه مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2719 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ آیت (فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ) (البقرۃ: 232) ” تو اے عورتوں کے والیو! انہیں نہ روکو اس سے کہ اپنے شوہروں سے نکاح کر لیں “۔ انہی کے متعلق نازل ہوئی۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے ایک آدمی سے اپنی بہن کی شادی کر دی۔ اس نے (ایک) طلاق دے دی۔ جب اس کی عدت گزر گئی تو اس نے پھر پیغام نکاح بھیجا، میں نے کہا: میں نے کس قدر عزت اور احترام سے تیرے ساتھ اس کی شادی کی تھی لیکن تو نے اس کو طلاق دے دی۔ اور اب تو دوبارہ اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہے۔ نہیں خدا کی قسم یہ کبھی بھی تیری طرف لوٹ کر نہیں آئے گی، وہ شخص بہت لاپرواہ تھا اور عورت اس کی طرف لوٹ کر جانا چاہتی تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی۔ تو میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اب میں یہ کر دیتا ہوں پھر میں نے دوبارہ اپنی بہن کا اسی کے ساتھ نکاح کر دیا۔ ٭٭ ابوبکر محمد بن اسحاق فرماتے ہیں: اس حدیث میں اس بات کی واضح دلیل موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عقدنکاح کا حق صرف عورت کے اولیاء ہی کو دیا ہے۔ اور عورتیں اگرچہ ثیبہ ہی کیوں نہ ہوں عقد کا کچھ اختیار نہیں رکھتی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2753]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2753 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. سعيد: هو ابن أبي عَروبة، وقتادة: هو ابن دِعامة، والحسن: هو البصري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راویوں کی تحقیق یہ ہے: سعید سے مراد "سعید بن ابی عروبہ"، قتادہ سے مراد "قتادہ بن دعامہ" اور حسن سے مراد "حسن بصری" ہیں۔
وأخرجه البخاري (5331)، وابن حبان (4071) من طريق عبد الأعلى بن عبد الأعلى، عن سعيد بن أبي عروبة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے (5331) میں اور ابن حبان نے (4071) میں عبد الاعلیٰ بن عبد الاعلیٰ عن سعید بن ابی عروبہ کے طریق سے اسی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري (5130) عن أحمد بن حفص بن عبد الله، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے (5130) میں احمد بن حفص بن عبد اللہ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري (4529)، وأبو داود (2087)، والترمذي (2981)، والنسائي (10974) و (10975) من طُرق عن الحسن البصري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (4529)، ابوداؤد (2087)، ترمذی (2981) اور نسائی (10974 و 10975) نے امام حسن بصری کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (3144) من طريق الفضل بن دَلْهم عن الحسن البصري.
📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت آگے نمبر (3144) پر فضل بن دلہم عن حسن بصری کے طریق سے دوبارہ آئے گی۔