🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. فضيلة الشام
شام کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2937
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا أَبي، سمعتُ يحيى بن أيوب يحدِّث عن يزيد بن أبي حَبيب، عن عبد الرحمن بن شُمَاسةَ، عن زيد بن ثابت قال: كنَّا عند رسول الله ﷺ نُؤلِّفُ القرآن من الرِّقَاع، فقال رسول الله ﷺ:"طُوبَى للشَّام"، فقلنا: لأيِّ شيءٍ ذاك؟ فقال:"لأنَّ ملائكةَ الرحمن باسطةٌ أجنِحتَها عليهم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وفيه البيانُ الواضحُ: أنَّ جَمْعَ القرآن لم يكن مرةً واحدةً، فقد جُمِعَ بعضُه بحَضْرة رسول الله ﷺ، ثم جُمِعَ بحَضْرة أبي بكر الصِّدّيق، والجمعُ الثالث - وهو ترتيب السُّوَر - كان في خلافة أمير المؤمنين عثمان، ﵃ أجمعين.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کاغذ یا چمڑے کے ٹکڑوں پر قرآن جمع کیا کرتے تھے، ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شام کے لیے خوشخبری ہے، ہم نے پوچھا: کس بناء پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان پر رحمت کے فرشتے اپنے پر پھیلاتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور اس حدیث میں یہ واضح بیان موجود ہے کہ قرآن پاک صرف ایک دفعہ ہی جمع نہیں کیا گیا بلکہ اس کا کچھ حصہ تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں جمع کر لیا گیا تھا، پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی جمع کیا گیا اور تیسری دفعہ جب سورتوں کی ترتیب کے ساتھ اس کی تالیف ہوئی ہے وہ سیدنا عثمانی غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ہوا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 2937]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2937 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح كسابقه.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث بھی پچھلی حدیث کی طرح "صحیح" ہے۔
وأخرجه الترمذي (3954)، وابن حبان (114) من طريقين عن وهب بن جرير، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / تخریج: اسے ترمذی (3954) اور ابن حبان (114) نے وہب بن جریر کے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال الترمذي: حديث حسن. ولم يذكر ابن حبان فيه فضل الشام.
⚖️ حکمِ ترمذی: امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث "حسن" ہے۔ 📝 نوٹ: ابن حبان نے اس میں شام کی فضیلت کا ذکر نہیں کیا۔
وسيأتي دون ذكر فضل الشام برقم (4263) من طريق إبراهيم بن أبي طالب عن وهب بن جرير.
📌 حوالہ: یہ شام کے ذکر کے بغیر نمبر (4263) پر ابراہیم بن ابی طالب عن وہب بن جریر کے طریق سے آئے گی۔