🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. القراءات
قراءات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2942
حدثني أبو بكر أحمد بن العبَّاس ابنُ الإمام المقرئُ، حدثنا عبد الله بن محمد بن عبد العزيز البَغَوي، حدثنا خَلَف بن هشام المقرئ، وحدثني علي بن حمزة الكِسَائي، حدثني حسين بن علي الجُعْفي، عن حُمْران بن أَعيَنَ، عن أبي الأسود الدِّيلِي، عن أبي ذرٍّ قال: جاء أعرابيٌّ إلى رسول الله ﷺ فقال: يا نَبِيءَ الله، فقال رسول الله ﷺ:"لستُ نَبيءَ الله، ولكنِّي نبيُّ الله" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ مفسَّر بإسناد ليس من شرط هذا الكتاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2906 - بل منكر لم يصح
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور بولا: یا نبیئی اللّٰہ (آخر میں ہمزہ بولا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا: میں نبیئی اللّٰہ نہیں ہوں بلکہ میں نبی اللّٰہ ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی مفسر شاہد ہے لیکن اس کی سند ہماری اس کتاب کے معیار کے مطابق نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 2942]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2942 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لضعف حمران بن أعين، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه" وتعقَّب تصحيح المصنف للحديث بقوله: بل منكر لم يصحَّ.
⚖️ تضعیف: یہ سند حمران بن اعین کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ اسی وجہ سے ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں اس پر علت لگائی ہے اور مصنف کی (اسے صحیح کہنے والی) تصحیح کا تعاقب کرتے ہوئے فرمایا: "بلکہ یہ منکر ہے، صحیح نہیں ہوئی۔"
وأخرجه ابن عدي في "الكامل" 2/ 436 - 437 من طريق حمزة الزيات، عن حمران بن أعين قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ … فذكره مرسلًا.
📖 حوالہ / تخریج: اسے ابن عدی نے "الکامل" (2/ 436-437) میں حمزہ الزیات عن حمران بن اعین کے طریق سے روایت کیا ہے کہ "ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا..." پس اسے "مرسلاً" ذکر کیا۔
وروي مثله من حديث ابن عبَّاس، أخرجه العقيلي في "الضعفاء" (1021)، وابن جُميع الصيداوي في "معجم الشيوخ" ص 226 من طريق عبد الرحيم بن حماد الثقفي، عن الأعمش، عن الشعبي، عن ابن عبَّاس. وعبد الرحيم هذا يروي عن الأعمش مناكير وما لا أصل له من حديث الأعمش، ووهَّاه الذهبي في "ميزان الاعتدال".
🧩 شاہد (ضعیف): اسی کی مثل حضرت ابن عباس کی حدیث سے بھی مروی ہے۔ اسے عقیلی نے "الضعفاء" (1021) اور ابن جمیع الصیداوی نے "معجم الشیوخ" (ص 226) میں عبدالرحیم بن حماد الثقفی عن الاعمش عن الشعبی عن ابن عباس کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ جرح: یہ عبدالرحیم اعمش سے "منکر" روایات نقل کرتا ہے جن کی اعمش کی حدیث میں کوئی اصل نہیں ہوتی، اور ذہبی نے "میزان الاعتدال" میں اسے "واہی" (بہت کمزور) قرار دیا ہے۔