المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. القراءات
قراءات
حدیث نمبر: 2943
حدثني أبو الحسين محمد بن محمد بن يعقوب الحافظ المقرئ، حدثنا أبو القاسم العبَّاس بن الفضل بن شاذانَ المقرئ، حدثنا إبراهيم بن مِهرانَ الأَيْلي، حدثنا مِهرانُ بن داود بن مِهران المقرئ، حدثنا عبد الله بن أُذَينة الطائي، عن موسى بن عُبيدة، عن نافع، عن ابن عمر قال: ما هَمَزَ رسولُ الله ﷺ ولا أبو بكر ولا عمرُ، ولا الخلفاءُ، وإنما الهمزُ بِدْعةٌ ابتَدَعوها مَن بَعدَهم (1) .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (قرآن کو) ہمزہ کے ساتھ پڑھا اور نہ آپ کے بعد آپ کے خلفاء سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھا ہے۔ ہمزہ پڑھنا تو بدعت ہے جو لوگوں نے خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے بعد ایجاد کی ہے۔ احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں موسیٰ بن عبیدہ الربذی رحمۃ اللہ علیہ اور عبدالرحمن بن زیادہ الافریقی رحمۃ اللہ علیہ کی روایات نقل نہیں کرتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 2943]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2943 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده واهٍ، عبد الله بن أذينة - وهو عبد الله بن عطارد بن أذينة - قال ابن عدي: منكر الحديث، وقال الدارقطني: متروك الحديث، واتهمه الحاكم والنقاش - كما في "لسان الميزان" - بأنه روى أحاديث موضوعة، وموسى بن عبيدة الرَّبَذي متفق على ضعفه ووهّاه الذهبي في "تلخيص المستدرك"، وإبراهيم بن مهران ومهران بن داود لم نقف على ترجمتهما.
⚖️ درجۂ اسناد: یہ سند "واہی" (انتہائی کمزور) ہے۔ عبداللہ بن اذینہ (جو عبداللہ بن عطارد بن اذینہ ہیں) کے بارے میں ابن عدی نے کہا: "منکر الحدیث" ہے، دارقطنی نے کہا: "متروک الحدیث" ہے، اور حاکم و نقاش نے (جیسا کہ لسان المیزان میں ہے) اس پر "موضوع" (من گھڑت) احادیث روایت کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اور موسیٰ بن عبیدہ الربذی کے ضعف پر اتفاق ہے اور ذہبی نے تلخیص المستدرک میں اسے "واہی" قرار دیا۔ اور ابراہیم بن مہران اور مہران بن داود کے حالات (تراجم) ہمیں نہیں ملے۔
حدیث نمبر: 2943M
سمعتُ أبا عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني الحافظ، يقول: سمعت أبا زكريا يحيى بن محمد بن يحيى يقول: سمعت أحمد بن حَنبَل يقول: لا أكتبُ حديثَ موسى بن عُبيدة الرَّبذِي ولا حديثَ عبد الرحمن بن زياد الأَفريقي.
یحییٰ بن محمد بن یحییٰ بیان کرتے ہیں کہ میں نے احمد بن حنبل کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں نہ تو موسیٰ بن عبیدہ الربذی کی حدیث لکھتا ہوں اور نہ ہی عبدالرحمن بن زیاد الافریقی کی حدیث (لکھتا ہوں)“۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 2943M]