🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. شأن نزول آية ( يا أيها الذين آمنوا إذا ضربتم فى سبيل الله فتبينوا ) الآية
آیت «اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو تحقیق کر لیا کرو» کے نزول کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2957
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران (1) ، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن سِمَاك، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: مَرَّ رجلٌ من بني سُلَيم على نفرٍ من أصحاب النبي ﷺ ومعه غنمٌ له، فسَلَّمَ عليهم، فقالوا: ما سَلَّمَ عليكم إلّا ليتعوَّذَ منكم، فعَمَدُوا إليه فقتلوه وأَخذوا غنمَه، فأَتَوْا بها النبيَّ ﷺ، فأنزل الله ﵎: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا﴾ إلى قوله: ﴿كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا﴾ [النساء: 94] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2920 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: بنی سلیم کا ایک آدمی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک جماعت کے پاس سے گزرا، اس کے پاس اس کی بکریاں بھی تھیں، اس آدمی نے ان لوگوں کو سلام کیا۔ انہوں نے سوچا کہ اس نے صرف اپنے بچاؤ کی خاطر ہمیں سلام کیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس کو مار ڈالا اور اس کی بکریاں اپنے قبضے میں لے لیں اور پھر وہ لوگ یہ بکریاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر یہ آیت نازل فرمائی: (یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوۡا وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ اَلۡقٰۤی اِلَیۡکُمُ السَّلٰمَ لَسۡتَ مُؤۡمِنًا ۚ تَبۡتَغُوۡنَ عَرَضَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۫ فَعِنۡدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیۡرَۃٌ ؕ کَذٰلِکَ کُنۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیۡکُمۡ فَتَبَیَّنُوۡا فتبیَّنُوا)۔ (النساء: 94) اے ایمان والو جب تم جہاد کو چلو تو تحقیق کر لو اور جو تمہیں سلام کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے تم جیتی دنیا کا اسباب چاہتے ہو تو اللہ کے پاس بہت غنیمتیں ہیں پہلے تم بھی ایسے ہی تھے پھر اللہ نے تم پر احسان کیا تو تم پر تحقیق کرنا لازم ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 2957]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2957 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: أحمد بن محمد بن مهران، بزيادة محمد في اسمه، وهي زيادة مقحمة هنا، وجاء على الصواب في "السنن الكبرى" للبيهقي 9/ 115 حيث رواه عن المصنف بإسناده ومتنه، وكذلك جاء على الصواب في "إتحاف المهرة" للحافظ ابن حجر (8578)، وقد تكررت الرواية لهذا الشيخ عند الحاكم في عشرات الأحاديث بإسقاط محمد من اسمه. وهو أحمد بن مهران بن خالد أبو جعفر الأصبهاني، ذكره أبو نعيم الأصبهاني في كتاب "أخبار أصبهان" 1/ 95، وابن حبان في "الثقات" 8/ 48 و 52.
📝 تحقیقِ راوی (تصحیح): قلمی نسخوں میں نام "احمد بن محمد بن مہران" لکھا ہے جس میں "محمد" کا اضافہ ہے، جو یہاں زبردستی داخل (مقحمہ) ہوا ہے۔ درست نام بیہقی کی "السنن الکبریٰ" (9/ 115) میں ہے جہاں انہوں نے مصنف کی سند اور متن سے روایت کی ہے، اور اسی طرح حافظ ابن حجر کی "اتحاف المہرہ" (8578) میں بھی درست ہے۔ حاکم کے ہاں دسیوں احادیث میں اس شیخ کی روایت "محمد" کے بغیر آئی ہے۔ یہ "احمد بن مہران بن خالد ابو جعفر الاصبہانی" ہیں (اخبار اصبہان 1/ 95، الثقات لابن حبان 8/ 48، 52)۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل ما قيل من أنَّ رواية سماك - وهو ابن حرب - عن عكرمة فيها اضطراب، وقد روي هذا الحديث من غير هذا الوجه كما سيأتي.
⚖️ درجۂ حدیث و اسناد: حدیث "صحیح" ہے، اور سماک (ابن حرب) کی عکرمہ سے روایت میں "اضطراب" کے قول کی وجہ سے یہ سند متابعات اور شواہد میں "حسن" ہے۔ یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسرے طریق سے بھی مروی ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
وأخرجه أحمد 3/ (2023) و 4/ (2462) و 5/ (2986)، والترمذي (3030)، وابن حبان (4752) من طرق عن إسرائيل، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن.
📖 حوالہ / تخریج: اسے احمد (3/ 2023، 4/ 2462، 5/ 2986)، ترمذی (3030) اور ابن حبان (4752) نے اسرائیل کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن" کہا۔
وقد روي أصل هذا الحديث بنحوه من طريق عمرو بن دينار، عن عطاء بن أبي رباح، عن ابن عبَّاس.
🧩 اصلِ حدیث: اس حدیث کی اصل عمرو بن دینار عن عطاء بن ابی رباح عن ابن عباس کے طریق سے مروی ہے۔
أخرجه البخاري (4591)، ومسلم (3025)، والنسائي (8536) و (11051).
📖 حوالہ / تخریج: اسے بخاری (4591)، مسلم (3025) اور نسائی (8536، 11051) نے روایت کیا ہے۔