🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. شأن نزول آية ( يا أيها الذين آمنوا إذا ضربتم فى سبيل الله فتبينوا ) الآية
آیت «اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو تحقیق کر لیا کرو» کے نزول کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2958
أخبرني محمد بن مُؤمَّل بن الحسن بن عيسى، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيَّب، حدثنا عيسى بن مِيناءَ قالُونُ، حدثني أبو غَزِيَّة محمد بن موسى القاضي، حدثنا إبراهيم بن إسماعيل الأشهَلي، عن داود بن الحُصَين، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس: أنَّ رسول الله ﷺ قرأَ: ﴿وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ﴾ [آل عمران: 161] بفتح الياء (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2921 - بل واه
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت وما کان لنبی ان یَّغُل یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 2958]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2958 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا من أجل أبي غزية وشيخه الأشهلي، ووهّاه الذهبي في "تلخيصه". وانظر "شرح مشكل الآثار" (5601) وما بعده والتعليق عليه.
⚖️ درجۂ اسناد: ابو غزیہ اور ان کے شیخ اشہلی کی وجہ سے یہ سند "بہت زیادہ ضعیف" (ضعیف جداً) ہے۔ ذہبی نے "تلخیص" میں اسے واہی (کمزور) قرار دیا۔ (شرح مشکل الآثار 5601 اور اس کے بعد کا حاشیہ دیکھیں)۔
وقرأ (يَغُلّ) بفتح الياء وضم الغين ابنُ كثير وأبو عمرو وعاصم، وقرأ بقية السبعة (يُغَلّ) بضم الياء وفتح الغين. انظر "السبعة" لابن مجاهد ص 218.
📚 قراءات: (يَغُلّ) یاء کے زبر اور غین کے پیش کے ساتھ ابن کثیر، ابوعمرو اور عاصم نے پڑھا ہے۔ بقیہ قراء سبعہ نے (يُغَلّ) یاء کے پیش اور غین کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ (السبعۃ ص 218)۔