🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. زيارة قبور الشهداء ورد السلام منهم إلى يوم القيامة
شہداء کی قبور کی زیارت اور قیامت تک ان کی طرف سے سلام کا جواب دیا جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3016
حدثني علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا بِشْر بن موسى الأَسدي، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو، عن عِكْرمة، عن أبي هريرة: أنَّ نبي الله ﷺ قرأ: ﴿فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ﴾ [سبا: 23] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2979 - على شرط البخاري
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورۂ سبا کی آیت 23 کی یوں) تلاوت کی (فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِھِمْ، قَالُوْا مَا ذَا قَالَ رَبُّکُمْ)۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3016]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3016 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. الحميدي: هو عبد الله بن الزبير المكي، وسفيان هو ابن عيينة، وعمرو: هو ابن دينار.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: یہاں حمیدی سے مراد "عبد اللہ بن زبیر المکی" ہیں، سفیان سے مراد "ابن عیینہ" ہیں، اور عمرو سے مراد "ابن دینار" ہیں۔
وهذا الخبر قطعة من حديث أخرجه البخاري (4800) عن الحميدي، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: یہ خبر اس حدیث کا ٹکڑا ہے جسے بخاری (4800) نے حمیدی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ پس حاکم کا اسے مستدرک (چھوٹی ہوئی روایت) قرار دینا ان کا "ذہول" (بھول) ہے۔
وأخرجه البخاري أيضًا (4701) و (7481)، وأبو داود (3989)، وابن ماجه (194)، والترمذي (3223)، وابن حبان (36) من طرق عن سفيان بن عيينة، به. وانظر الخلاف في قراءة (فُزِّع) في رواية البخاري رقم (7481) وشرح الحافظ ابن حجر عليها في "الفتح" 14/ 188 و 24/ 435.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (4701) و (7481)، ابو داود (3989)، ابن ماجہ (194)، ترمذی (3223)، اور ابن حبان (36) نے سفیان بن عیینہ سے مختلف طرق کے ذریعے روایت کیا ہے۔ بخاری کی روایت (7481) میں (فُزِّع) کی قراءت میں اختلاف اور حافظ ابن حجر کی شرح "الفتح" 14/ 188 اور 24/ 435 میں دیکھیں۔