🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. زيارة قبور الشهداء ورد السلام منهم إلى يوم القيامة
شہداء کی قبور کی زیارت اور قیامت تک ان کی طرف سے سلام کا جواب دیا جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3015
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنَان القَزَّاز، حدثنا أبو عبد الله محمد (2) بن الحارث مولى بني هاشم، حدثنا محمد بن عبد الرحمن ابن البَيلَماني، عن أبيه، عن ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ قرآ: (لقد كانَ لسَبَإٍ فِي مَساكِنهم) [سبأ: 15] (3) . هذه نسخةٌ لم نكتبها عاليةً إلّا عن أبي العبَّاس، والشيخان لم يحتجَّا بابن البَيلَماني.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2978 - لم يصح
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم نے (سورۂ سبا کی آیت 15 کی یوں) تلاوت کی: (لَقَدْ کَانَ لِسَبَائَ فِیْ مَسَاکِنِھِمْ) (نوٹ: حمزہ اور حفص نے مَسْکَنِھِمْ میں کاف پر فتحہ پڑھا ہے، اس طرح ان کے نزدیک یہ واحد ٹھہرا۔ جیسا کہ ہمارے بلاد میں روایت حفص میں یہی مشہور ہے، کسائی نے کاف نے نیچے کسرہ پڑھا اور باقی قراء نے اس کو مساکنھم جمع کے طور پر پڑھا ہے۔ شفیق) ٭٭ یہ نسخہ عموماً ہم نے ابوالعباس کے حوالے سے نقل کیا ہے جبکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابن البیلمانی کی روایات نقل نہیں کیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3015]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3015 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) هكذا في (ز) على الصواب، وفي بقية النسخ: حدثنا عبد الله بن محمد، وهو خطأ.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں متن درست ہے، جبکہ باقی نسخوں میں "حدثنا عبد اللہ بن محمد" ہے جو کہ غلط ہے۔
(3) إسناده ضعيف جدًا، محمد بن سنان القزاز ومن فوقه من الرواة ضعفاء، وأشدُّهم ضعفًا محمد بن عبد الرحمن بن البيلماني، وضعَّف الحديثَ الذهبي في "تلخيصه". وأخرجه أبو عمر الدُّوري في "قراءات النبي ﷺ " (94) من طريق بندار البصري ـ وهو محمد ابن بشار - عن محمد بن الحارث، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "انتہائی ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن سنان القزاز اور ان سے اوپر والے راوی ضعیف ہیں، ان میں سب سے زیادہ ضعیف "محمد بن عبد الرحمن بن البیلمانی" ہے۔ ذہبی نے "التلخیص" میں اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو عمر الدوری نے "قراءات النبی ﷺ" (94) میں بندار البصری (محمد بن بشار) عن محمد بن الحارث کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وهكذا قرأ (مساكنهم) بألف من السبعة ابنُ كثير ونافع وابن عامر وأبو عمرو وعاصم في رواية أبي بكر عنه، وقرأ الباقون (مسكنهم) بلا ألف. انظر "السبعة" لابن مجاهد ص 528.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: (مساكنهم) الف کے ساتھ قراءت سبعہ میں سے ابن کثیر، نافع، ابن عامر، ابو عمرو، اور عاصم (بروایت ابی بکر) نے کی ہے۔ باقی قراء نے (مسكنهم) بغیر الف کے پڑھا ہے۔ ملاحظہ ہو "السبعۃ" ص 528۔