🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. زيارة قبور الشهداء ورد السلام منهم إلى يوم القيامة
شہداء کی قبور کی زیارت اور قیامت تک ان کی طرف سے سلام کا جواب دیا جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3018
حدثنا أبو محمد أحمد بن إبراهيم بن هاشم الحافظ إملاءً، حدثنا تَمِيم ابن محمد بن طُمْغاج، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا سفيان بن عُيَينة وأبو أسامة، عن محمد بن عمرو، عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطِبٍ، عن عبد الله بن الزُّبير قال: قال الزُّبير: لما نزلت: ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ (30) ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ﴾ [الزمر: 30 - 31] - قال الزُّبير: يا رسول الله، أيُكرَّرُ علينا ما كان بيننا في الدنيا مع خَوَاصِّ الذنوب؟ فقال:"نعم، يُكرَّرُ عليهم ذلك حتى يُؤدُّوا إلى كلِّ ذي حقٍّ حقَّه"، فقال الزبير: والله إنَّ الأمر لشديدٌ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2981 - صحيح
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب (سورۂ زمر کی آیت 31): (اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّہُمْ مَّیِّتُوْنَ، ثُمَّ اِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ) (الزمر: 31) نازل ہوئی تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا خاص گناہوں کے ہمراہ ہمارے دنیاوی معاملات بھی قیامت کے دن ہم پر دہرائے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ وہ ان پر اس وقت تک دہرائے جاتے رہیں گے جب تک کہ ہر صاحب حق کو اس کا حق نہ مل جائے۔ تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بولے: خدا کی قسم! وہاں کا معاملہ تو بہت سخت ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3018]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3018 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة اللَّيثي. أبو أسامة: هو حماد بن أسامة. وأخرجه أحمد 3/ (1405)، والترمذي (3236) من طريق سفيان بن عيينة بهذا الإسناد. ورواية أحمد مختصرة. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح. وأخرجه أحمد (1434) عن عبد الله بن نمير، عن محمد بن عمرو، به.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند محمد بن عمرو (ابن علقمہ اللیثی) کی وجہ سے "حسن" ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: یہاں ابو اسامہ سے مراد "حماد بن اسامہ" ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد 3/ (1405) اور ترمذی (3236) نے سفیان بن عیینہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے (احمد کی روایت مختصر ہے)، اور ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔ نیز اسے احمد (1434) نے عبد اللہ بن نمیر، عن محمد بن عمرو کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (3668) و (3669) و (8923).
📖 حوالہ / مصدر: یہ آگے نمبر (3668)، (3669)، اور (8923) پر آئے گی۔