🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. سيدة آي القرآن آية الكرسي
قرآن کی آیات میں سب سے عظیم آیت، آیت الکرسی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3071
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان، حدثنا محمد بن عُبيد، حدثنا مِسعَر، عن عبد الملك بن مَيسَرة، عن عبد الرحمن ابن سابِط، عن عمرو بن ميمون، عن عبد الله بن مسعود قال: إنَّ الحجارة التي سمَّى اللهُ في القرآن ﴿وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ﴾ [البقرة: 24] ، حجارةٌ من كَبْريت خَلَقها الله عنده كيف شاءَ؛ أو كما شاءَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3034 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی اس آیت: وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ حِجَارَۃٌ (البقرۃ: 24) جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ۔ میں جس حجارہ کا ذکر کیا ہے (اس سے مراد) کبریت کا پتھر ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاں جیسے چاہا پیدا کیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3071]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3071 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه البيهقي في "البعث والنشور" (503) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "البعث والنشور" (503) میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن المبارك في "الزهد - رواية نعيم بن حماد" (307)، وعبد الرزاق في "تفسيره" 1/ 40، وهناد في "الزهد" (263)، وابن أبي الدنيا في "صفة النار" (232)، والطبري في "تفسيره" 1/ 169، وابن أبي حاتم في "تفسيره" 1/ 64، والطبراني في "الكبير" (9026) من طرق عن مسعر، به، وسيأتي برقم (3869).
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن مبارک نے "الزہد - روایت نعیم بن حماد" (307) میں، عبدالرزاق نے اپنی "تفسیر" 1/ 40 میں، ہناد نے "الزہد" (263) میں، ابن ابی الدنیا نے "صفة النار" (232) میں، طبری نے اپنی "تفسیر" 1/ 169 میں، ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" 1/ 64 میں، اور طبرانی نے "الکبیر" (9026) میں مسعر کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے، 🧾 تفصیلِ روایت: اور یہ آگے نمبر (3869) پر آئے گا۔