🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. سيدة آي القرآن آية الكرسي
قرآن کی آیات میں سب سے عظیم آیت، آیت الکرسی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3073
أخبرني أبو بكر محمد بن المؤمَّل بن الحسن بن عيسى، حدثنا الفضل ابن محمد الشَّعْراني، حدثنا النُّفْيلي، حدثنا محمد بن سَلَمة، عن خُصَيف بن عبد الرحمن، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: لمَّا فَرَغَ الله من خلق آدمَ وَجَرَى فيه الرُّوحُ، عَطَسَ فقال: الحمد الله، فقال له ربُّه: يَرحَمُك ربُّك (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وقد أسنده عَتَّاب عن خُصَيف (3) ، وليس من شَرْط هذا الكتاب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3036 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق مکمل فرما دی اور اس میں روح ڈالی تو آدم علیہ السلام کو چھینک آئی، تو انہوں نے اَلْحَمْدُلِلّٰہ کہا۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے کہا: یَرْحَمُکَ رَبُّکَ (تیرا رب تجھ پر رحم کرے۔) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ اس کو عتاب نے خصیف سے مسند کیا ہے تاہم یہ راوی اس کتاب کے معیار کے نہیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3073]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3073 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل خصيف بن عبد الرحمن، النفيلي: هو عبد الله بن محمد بن علي النفيلي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند خصیف بن عبدالرحمن کی وجہ سے متابعات اور شواہد میں ’حسن‘ ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: نفیلی سے مراد ’عبداللہ بن محمد بن علی النفیلی‘ ہیں۔
وأخرجه الفريابي في "القدر" (6) عن إسماعيل بن أبي كريمة، عن محمد بن سلمة الحرّاني، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے فریابی نے "القدر" (6) میں اسماعیل بن ابی کریمہ سے، انہوں نے محمد بن سلمہ الحرانی سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
ويشهد له حديث أبي هريرة مرفوعًا فيما سلف برقم (215)، ورجاله لا بأس بهم.
🧩 متابعات و شواہد: اور اس کی تائید (بطور شاہد) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث کرتی ہے جو پیچھے نمبر (215) پر گزر چکی ہے، ⚖️ درجۂ حدیث: اور اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہم)۔
(3) عَتَّاب هذا هو ابن بشير، وأحاديثه عن خصيف فيها مناكير. ولم نقف على روايته المسنَدة التي أشار إليها المصنف.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ عتاب ’ابن بشیر‘ ہیں، اور خصیف سے ان کی مرویات میں منکر روایات پائی جاتی ہیں (مناکیر)۔ اور مصنف نے جس مسند روایت کی طرف اشارہ کیا ہے وہ ہمیں نہیں ملی۔