المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
32. كانت الرسل ثلاثمائة وخمس عشرة
انبیاء کی تعداد تین سو پندرہ تھی
حدیث نمبر: 3080
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد ابن حازم بن أبي غَرَزَة الغِفاري، حدثنا قَبِيصة بن عُقْبة، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن مُسلِم البَطِين، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس: ﴿وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ﴾ قال: اليهود ﴿وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا﴾ [البقرة: 96] قال: الأعاجم (2) . قد اتفق الشيخان على سَنَد تفسير الصحابي (3) ، وهذا إسناد صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3043 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3043 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ” وَ لَتَجِدَنَّھُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوۃٍ “ (البقرۃ: 96) ” اور بیشک تم ضرور انہیں پاؤ گے کہ سب لوگوں سے زیادہ جینے کی ہوس رکھتے ہیں “۔ (میں جن لوگوں کا تذکرہ ہے ان سے مراد) ” یہودی “ ہیں اور ” وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا “ (سے مراد) ” عجمی لوگ “ ہیں۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں صحابی کی تفسیر سے سند لاتے ہیں اور یہ اسناد شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3080]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3080 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. سفيان: هو الثوري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سفیان سے مراد ’ثوری‘ ہیں۔
وأخرجه ابن أبي حاتم في "تفسيره" 1/ 178 من طريق عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" 1/ 178 میں عبدالرحمن بن مہدی کے طریق سے، انہوں نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
(3) انظر التعليق على هذه المسألة عند الحديث السالف برقم (73).
🧾 تفصیلِ روایت: اس مسئلے پر تعلیق (بحث) وہیں دیکھیں جو حدیث نمبر (73) کے تحت گزر چکی ہے۔