المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
40. الصفا والمروة كانتا من مشاعر الجاهلية أيضا
صفا اور مروہ جاہلیت کے زمانے میں بھی عبادت کی جگہوں میں شمار ہوتے تھے
حدیث نمبر: 3108
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا محمد بن فُضَيل، حدثنا عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: أتاه رجلٌ فقال: أَبدأُ بالصَّفا قبلَ المَرْوة، أو بالمروةِ قبل الصفا؟ وأُصلِّي قبل أن أطوفَ، أو أطوفُ قبل أن أُصلِّي؟ وأَحلِقُ قبل أن أذبحَ، أو أذبحُ قبل أن أحلقَ؟ فقال ابن عبَّاس: خُذْ ذاك من كتاب الله، فإنه أجدَرُ أن يُحفَظَ، قال الله ﵎: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾، فالصَّفا قبل المَرْوة، وقال: ﴿لَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ﴾ [البقرة: 196] الذبحُ قبل الحَلْق، وقال: ﴿طَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ﴾ [الحج: 26] ، الطوافُ قبل الصلاة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3071 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3071 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ان کے پاس ایک آدمی آیا اور پوچھنے لگا: میں سعی کا آغاز صفا سے کروں یا مروہ سے؟ اور پہلے نماز پڑھوں یا نماز سے پہلے طواف کروں؟ اور پہلے حلق کراؤں یا پہلے قربانی کروں؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ان تمام مسائل کا حل قرآن پاک سے حاصل کرو کیونکہ بہتر یہی ہے کہ اسی کو محفوظ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ (البقرۃ: 158) ” بے شک صفا اور مروۃ اللہ کے نشانوں میں سے ہیں “۔ “ معلوم ہوا کہ صفا، مروہ سے پہلے ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَلَا تَحْلِقُوْا رُئُوْسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْھَدْیُ مَحِلَّہٗ (البقرۃ: 196) ” اور اپنے سر نہ منڈواؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے “۔ معلوم ہوا کہ ذبح، حلق سے پہلے ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: طَھِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْعٰکِفِیْنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوْدِ (البقرۃ: 125) ” کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف کرنے والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع سجود والوں کے لیے “۔ معلوم ہوا کہ طواف، نماز سے پہلے ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3108]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3108 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) هذا إسناد لا بأس به مع ما ذُكر من أنَّ سماع محمد بن فضيل من عطاء بن السائب كان قبل اختلاط عطاء، لكن توبع ابن فضيل عن عطاء ببعضه - وهو قصة الطواف قبل الصلاة - كما سلف برقم (3093) و (3094)، ثم إنه ثبت من وجهين عند الطحاوي في "مشكل الآثار" 15/ 288 عن ابن عبَّاس أنه قال: من قدَّم شيئًا من حجِّه وأخَّر فليُهرِق دمًا، فهذا يدلُّ على أنَّ ابن عبَّاس كان يرى الترتيب في أفعال الحج كلها، ومنها الذبح والحلق.
⚖️ درجۂ حدیث: اس سند میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہ)، اس بات کے ساتھ جو ذکر کی گئی ہے کہ محمد بن فضیل کا سماع عطاء بن السائب سے ان (عطاء) کے اختلاط سے پہلے کا ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: لیکن ابن فضیل کی عطاء سے روایت کی بعض حصوں میں متابعت کی گئی ہے - اور وہ نماز سے پہلے طواف کا قصہ ہے - جیسا کہ نمبر (3093) اور (3094) پر گزر چکا ہے۔ پھر یہ طحاوی کی "مشكل الآثار" 15/ 288 میں دو وجہوں سے ابن عباس سے ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا: "جس نے اپنے حج کے کسی عمل کو مقدم یا مؤخر کیا تو وہ دم (جانور کی قربانی) دے"، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ابن عباس حج کے تمام افعال میں ترتیب کے قائل تھے، جن میں ذبح اور حلق بھی شامل ہیں۔
وحديث ابن فضيل هذا أخرجه البيهقي 1/ 85 عن أبي عبد الله الحاكم بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اور ابن فضیل کی یہ حدیث بیہقی نے 1/ 85 میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کی ہے۔
وأخرجه مختصرًا بقصة الذبح قبل الحلق: ابنُ أبي حاتم في "تفسيره" 1/ 337 عن أبي سعيد الأشج، عن محمد بن فضيل، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" 1/ 337 میں ابو سعید الاشج کے طریق سے، انہوں نے محمد بن فضیل سے مختصراً (صرف حلق سے پہلے ذبح کے قصے کے ساتھ) تخریج کیا ہے۔