🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. الصفا والمروة كانتا من مشاعر الجاهلية أيضا
صفا اور مروہ جاہلیت کے زمانے میں بھی عبادت کی جگہوں میں شمار ہوتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3107
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أَسِيد بن عاصم الأصبهاني، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان، عن عاصم قال: سألتُ أنس بن مالك عن الصَّفا والمَرْوة، قال: كانتا من مَشاعِر الجاهلية، فلما كان الإسلامُ أمسَكْنا عنهما، فأنزل الله: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا﴾ الآيةَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3070 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے صفا اور مروہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ دونوں جاہلیت کی علامتیں ہوا کرتی تھیں، جب اسلام آیا تو ہم ان سے رُک گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفاَا بِھِمَا وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا (البقرۃ: 158) بے شک صفا اور مروۃ اللہ کے نشانوں میں سے ہیں تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے اور جو کوئی بھلی بات اپنی طرف سے کرے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3107]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3107 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد جيد من أجل الحسين بن حفص. سفيان: هو الثوري، وعاصم: هو ابن سليمان الأحول.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند حسین بن حفص کی وجہ سے ’جید‘ ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سفیان سے مراد ’ثوری‘ ہیں، اور عاصم سے مراد ’ابن سلیمان الاحول‘ ہیں۔
وأخرجه البخاري (4496)، والترمذي (2966) من طريقين عن سفيان، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهول منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری نے (4496) اور ترمذی نے (2966) میں سفیان سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے؛ 📌 اہم نکتہ: چنانچہ حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی بھول ہے۔
وأخرجه بنحوه البخاري أيضًا (1648)، ومسلم (1278)، والنسائي (3945) من طرق عن عاصم الأحول، به.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی مثل بخاری نے بھی (1648) میں، مسلم نے (1278) میں، اور نسائی نے (3945) میں عاصم الاحول کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔