🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

40. الصَّفَا وَالْمَرْوَةُ كَانَتَا مِنْ مَشَاعِرِ الْجَاهِلِيَّةِ أَيْضًا
صفا اور مروہ جاہلیت کے زمانے میں بھی عبادت کی جگہوں میں شمار ہوتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3106
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا محمد بن سعيد ابن الأصبهاني، حدثنا علي بن مَسهِر، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: إنما نزلت هذه الآيةُ في الأنصار، كانوا في الجاهلية إذا أَحرموا لا يَحِلُّ لهم أن يَطَّوَّفوا بين الصَّفَا والمَرْوة، فلما قَدِمْنا ذَكَروا ذلك لرسول الله ﷺ، فأنزل الله: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ إلى آخر الآية [البقرة: 158] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3069 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: یہ آیت: اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ (البقرۃ: 158) بے شک صفا اور مروہ اللہ کے نشانوں سے ہیں ۔ انصار کے متعلق نازل ہوئی کیونکہ زمانہ جاہلیت میں ان کا طریقہ یہ تھا کہ جب وہ احرام باندھ لیتے تو وہ صفا و مروہ کی سعی کو ناجائز سمجھتے تھے۔ جب ہم وہاں آئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ مسئلہ ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ (البقرۃ: 158) بے شک صفا اور مروہ اللہ کے نشانوں میں سے ہیں۔ انصار کے متعلق نازل ہوئی کیونکہ زمانہ جاہلیت میں ان کا طریقہ یہ تھا کہ جب وہ احرام باندھ لیتے تو وہ صفا و مروہ کی سعی کو ناجائز سمجھتے تھے۔ جب ہم وہاں آئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ مسئلہ ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ (البقرۃ: 158) بے شک صفا اور مروۃ اللہ کے نشانوں میں سے ہیں ۔ آیت کے آخر تک۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3106]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3107
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أَسِيد بن عاصم الأصبهاني، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان، عن عاصم قال: سألتُ أنس بن مالك عن الصَّفا والمَرْوة، قال: كانتا من مَشاعِر الجاهلية، فلما كان الإسلامُ أمسَكْنا عنهما، فأنزل الله: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا﴾ الآيةَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3070 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے صفا اور مروہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ دونوں جاہلیت کی علامتیں ہوا کرتی تھیں، جب اسلام آیا تو ہم ان سے رُک گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفاَا بِھِمَا وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا (البقرۃ: 158) بے شک صفا اور مروۃ اللہ کے نشانوں میں سے ہیں تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے اور جو کوئی بھلی بات اپنی طرف سے کرے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3107]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3108
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا محمد بن فُضَيل، حدثنا عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: أتاه رجلٌ فقال: أَبدأُ بالصَّفا قبلَ المَرْوة، أو بالمروةِ قبل الصفا؟ وأُصلِّي قبل أن أطوفَ، أو أطوفُ قبل أن أُصلِّي؟ وأَحلِقُ قبل أن أذبحَ، أو أذبحُ قبل أن أحلقَ؟ فقال ابن عبَّاس: خُذْ ذاك من كتاب الله، فإنه أجدَرُ أن يُحفَظَ، قال الله ﵎: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾، فالصَّفا قبل المَرْوة، وقال: ﴿لَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ﴾ [البقرة: 196] الذبحُ قبل الحَلْق، وقال: ﴿طَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ﴾ [الحج: 26] ، الطوافُ قبل الصلاة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3071 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ان کے پاس ایک آدمی آیا اور پوچھنے لگا: میں سعی کا آغاز صفا سے کروں یا مروہ سے؟ اور پہلے نماز پڑھوں یا نماز سے پہلے طواف کروں؟ اور پہلے حلق کراؤں یا پہلے قربانی کروں؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ان تمام مسائل کا حل قرآن پاک سے حاصل کرو کیونکہ بہتر یہی ہے کہ اسی کو محفوظ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ (البقرۃ: 158) بے شک صفا اور مروۃ اللہ کے نشانوں میں سے ہیں ۔ معلوم ہوا کہ صفا، مروہ سے پہلے ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَلَا تَحْلِقُوْا رُئُوْسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْھَدْیُ مَحِلَّہٗ (البقرۃ: 196) اور اپنے سر نہ منڈواؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے ۔ معلوم ہوا کہ ذبح، حلق سے پہلے ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: طَھِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْعٰکِفِیْنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوْدِ (البقرۃ: 125) کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف کرنے والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع سجود والوں کے لیے ۔ معلوم ہوا کہ طواف، نماز سے پہلے ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3108]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں