المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
50. هدينا مخالف لهديهم
ہمارا طریقہ ان کے طریقے کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 3136
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا جَرير عن الأعمش، عن مُسلِم البَطِين، عن سعيد بن جُبير قال: جاء رجل إلى ابن عبَّاس قال: إني أَجَرتُ نفسي من قومٍ على أن يَحمِلوني، ووضعتُ لهم من أُجْرتي على أن يَدَعوني أحجُّ معهم، أفيُجزى ذلك؟ قال: أنت من الذين قال الله ﷿: ﴿أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾ [البقرة: 202] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3099 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3099 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور بولا: میں نے اپنی قوم کے ساتھ اس بات پر اجارہ کر رکھا ہے کہ وہ مجھے اپنا بوجھ اٹھواتے رہیں جبکہ میں نے اپنی اجرت ان کو اس شرط پر معاف کر رکھی ہے کہ وہ مجھے اپنے ہمراہ حج پر لے جائیں گے۔ کیا یہ میرے لیے جائز ہے؟ (سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما) بولے: تو ان لوگوں میں سے ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: اُولٰٓئِکَ لَھُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا کَسَبُوْا وَ اللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ (البقرۃ: 202) ” ایسوں کو ان کی کمائی سے بھاگ ہے، اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے “۔۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3136]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3136 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه وجرير هو ابن عبد الحميد، ومسلم البطين: هو ابن عمران.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اسحاق بن ابراہیم سے مراد ’ابن راہویہ‘ ہیں، جریر سے مراد ’ابن عبدالحمید‘ ہیں، اور مسلم البطین سے مراد ’ابن عمران‘ ہیں۔
وأخرجه ابن أبي شيبة في "مصنفه" (15372 - عوامة)، وابن المنذر في "الأوسط" (8477)، وابن أبي حاتم في "تفسيره" 2/ 359، وابن المقرئ في "معجمه" (1000)، والبيهقي 4/ 333 من طرق عن الأعمش، بهذا الإسناد. وانظر ما سلف برقم (1790).
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ نے "مصنف" (15372 - عوامہ) میں، ابن المنذر نے "الأوسط" (8477) میں، ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" 2/ 359 میں، ابن المقری نے "معجم" (1000) میں، اور بیہقی نے 4/ 333 میں اعمش کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اور دیکھیے جو پیچھے نمبر (1790) پر گزر چکا ہے۔