🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. هدينا مخالف لهديهم
ہمارا طریقہ ان کے طریقے کے خلاف ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3137
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا شُعبة، عن بُكَير بن عطاء، عن عبد الرحمن بن يَعمَر الدِّيلي قال: قال رسول الله ﷺ:"الحجُّ عَرَفةُ -أو عَرَفات- فمَن أدرَكَ عرفةَ قبلَ طلوع الفجر، فقد أدركَ الحجَّ، أيامُ مِنى ثلاثٌ؛ فمن تَعجَّلَ في يومين فلا إثمَ عليه، ومن تأخَّرَ فلا إثمَ عليه" (3) .
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3100 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبدالرحمن بن یعمر دیلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حج عرفہ یا (شاید یہ فرمایا) عرفات (میں قیام) کا نام ہے، اس لیے جس نے عرفہ میں طلوع فجر سے پہلے (کوئی ساعت) پا لی اس نے حج کو پا لیا اور منٰی کے دن تین ہیں۔ جو شخص دو دنوں میں جلدی کرے اس پر کوئی حرج نہیں ہے اور جو تاخیر کرے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3137]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3137 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل يحيى بن أبي طالب، وقد توبع. وأخرجه أحمد 31 / (18773) و (18775)، والنسائي (4166) من طرق عن شعبة، بهذا الإسناد. وانظر ما سلف برقم (1721).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند یحییٰ بن ابی طالب کی وجہ سے ’قوی‘ ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد نے 31/ (18773) اور (18775)، اور نسائی نے (4166) میں شعبہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اور دیکھیے جو پیچھے نمبر (1721) پر گزر چکا ہے۔
(1) ما بين المعقوفين في الموضعين مكانه بياض في الأصول، واستدركناه من "السنن الكبرى" 8/ 285 و "معرفة السنن والآثار" (18288) كلاهما للبيهقي، حيث رواه عن المصنف بإسناده ومتنه.
📝 نوٹ / توضیح: دونوں مقامات پر بریکٹ میں موجود جگہ پر اصل نسخوں میں بیاض (خالی جگہ) ہے، اور ہم نے اسے بیہقی کی "السنن الكبرى" 8/ 285 اور "معرفة السنن والآثار" (18288) سے پورا (استدراک) کیا ہے جہاں انہوں نے اسے مصنف سے ان کی سند اور متن کے ساتھ روایت کیا ہے۔