🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
58. نفقتك على أهلك وولدك وخادمك صدقة
اپنے اہل، اولاد اور خادم پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3155
حدثنا عبد الباقي بن قانع الحافظ، حدثنا عُبيد بن محمد بن حاتم العِجْلُ (3) ، حدثني أبو بكر بن أبي النَّضْر، حدثنا أَبي، حدثنا زياد بن عبد الله بن عُلَاثة، حدثنا موسى بن محمد بن إبراهيم التَّيمي، عن أبيه، عن أنس بن مالك: أنَّ رسول الله ﷺ سأَل البراءَ بن عازِبٍ فقال:"يا براءُ، كيف نَفَقتك على أهلِك؟" -قال: وكان موسِّعًا على أهله- فقال: يا رسول الله، ما أحسُبُها، قال:"فإنَّ نفقتَك على أهلِك وولدِك وخادمِك صدقةٌ، فلا تُتبِعْ ذلك مَنًّا ولا أذًى" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3118 - فيه موسى بن محمد بن إبراهيم التيمي وهو متروك قاله الدارقطني
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے براء! تم اپنے گھر والوں پر کتنا خرچہ کرتے ہو؟ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں: سیدنا براء رضی اللہ عنہ اپنے اہل و عیال پر بہت کھلا خرچ کرنے والے آدمی تھے۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس کا حساب نہیں رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے بیوی بچوں اور خادم کے لیے خرچہ کرنا صدقہ ہے، اس لیے اس پر نہ احسان جتلانا اور نہ تکلیف دینا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3155]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3155 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) في النسخ الخطية العجلي، وهو خطأ، فإنَّ عبيدًا كان يلقب العجل، وليس هو نسبة له.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (العجلي) لکھا ہے، اور یہ غلط ہے، کیونکہ عبید کا لقب ’العجل‘ تھا، اور یہ ان کی نسبت نہیں ہے۔
(4) إسناده ضعيف لضعف موسى بن محمد بن إبراهيم التيمي، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه".
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند موسیٰ بن محمد بن ابراہیم التیمی کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، اور اسی وجہ سے ذہبی نے "تلخیص" میں اسے معلول قرار دیا ہے۔
ولم نقف عليه عند غير المصنف.
📖 حوالہ / مصدر: اور ہمیں یہ مصنف کے علاوہ کسی اور کے ہاں نہیں ملا۔