🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
58. نفقتك على أهلك وولدك وخادمك صدقة
اپنے اہل، اولاد اور خادم پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3157
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا حجَّاج بن محمد، عن ابن جُرَيج، سمعت ابنَ أبي مُلَيكة يُخبر عن عُبيد بن عُمير أنه سمعه يقول: سأل عمرُ أصحابَ النبي ﷺ فقال: فيمَ ترونَ أُنزلت: ﴿أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ﴾ [البقرة: 266] ؟ فقالوا: الله أعلمُ، فغَضِبَ فقال: قولوا: نعلمُ أو لا نعلمُ، فقال ابن عبَّاس: في نفسي منها شيءٌ يا أمير المؤمنين، فقال عمر: قل يا ابنَ أخي ولا تَحقِرْ نفسَك، قال ابن عبَّاس: ضُرِبَت مثلًا لعَملٍ، فقال عمر: أيُّ عملٍ؟ فقال: لعملٍ، فقال عمر: رجلٌ غنيٌّ يعمل الحسناتِ، ثم بَعَثَ الله له الشياطين فعَمِلَ بالمعاصي، حتى أَغرَقَ أعمالَه كلَّها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3120 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے پوچھا: تمہارا کیا خیال ہے یہ آیت کس تناظر میں نازل ہوئی تھی: اَیَوَدُّ اَحَدُکُمْ اَنْ تَکُوْنَ لَہٗ جَنَّۃٌ (البقرہ: 266) کیا تم میں سے کوئی ایسی پسند رکھے گا کہ اس کے پاس ایک باغ ہو ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جواباً کہا: اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے اور بولے: تم اپنی بات کرو کہ تم جانتے ہو یا نہیں؟ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بولے: اے امیرالمومنین! میرے ذہن میں اس کے متعلق کچھ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: اے میرے بھتیجے! بولو: اور اپنے آپ کو حقیر مت سمجھو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک عمل کی مثال بیان کی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کون سے عمل کی؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ایک عمل کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: ایک مالدار آدمی نیک عمل کرتا رہتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کے لیے شیاطین کو بھیجتا ہے تو وہ گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے، اس طرح اس کے تمام اعمال کا بیڑہ غرق ہو جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3157]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3157 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن أبي مليكة: وهو أبو بكر بن أبي مليكة أخو عبد الله، كما جاء مبيَّنًا عند البخاري في "صحيحه".
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند ابن ابی ملیکہ (ابو بکر بن ابی ملیکہ، جو عبداللہ کے بھائی ہیں) کی وجہ سے ’حسن‘ ہے، جیسا کہ بخاری کی "صحیح" میں واضح ہے۔
فقد أخرجه البخاري برقم (4538) من طريق هشام -وهو ابن يوسف الصنعاني- عن ابن جريج قال: سمعت عبد الله بن أبي مليكة يحدَّث عن ابن عبَّاس. قال -أي: أبي جريج-: وسمعت أخاه أبا بكر بن أبي مليكة يحدِّث عن عبيد بن عمير قال: قال عمر … إلخ. فاستدراك الحاكم له ذهول منه.
📖 حوالہ / مصدر: چنانچہ اسے بخاری نے نمبر (4538) پر ہشام (ابن یوسف الصنعانی) کے طریق سے، انہوں نے ابن جریج سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن ابی ملیکہ کو سنا کہ وہ ابن عباس سے حدیث بیان کر رہے تھے۔ (ابن جریج نے) کہا: اور میں نے ان کے بھائی ابو بکر بن ابی ملیکہ کو بھی سنا کہ وہ عبید بن عمیر سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا... الخ۔ 📌 اہم نکتہ: چنانچہ حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے۔
وسيأتي برقم (6440) من طريق أيوب عن ابن أبي مليكة: أنَّ عمر …
🧾 تفصیلِ روایت: اور یہ آگے نمبر (6440) پر ایوب عن ابن ابی ملیکہ کے طریق سے آئے گا کہ: عمر رضی اللہ عنہ...