🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
58. نفقتك على أهلك وولدك وخادمك صدقة
اپنے اہل، اولاد اور خادم پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3159
حدثنا أحمد بن سهل بن حَمدَوَيهِ الفقيه ببُخارَي، حدثنا قيس بن أُنَيف، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا حاتم بن إسماعيل، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر قال: أَمر النبيُّ ﷺ بزكاة الفِطْر بصاعٍ من تمر، فجاء رجل بتمرٍ رديءٍ، فقال النبي ﷺ لعبد الله بن رَوَاحة:"لا تَخرُصُ هذا التمر"، فنزل القرآن: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ [البقرة: 267] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3122 - على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجور صدقہ فطر (کے طور پر دینے) کا حکم دیا ایک آدمی ردی قسم کی کھجوریں لے آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان کھجوروں کا اندازہ مت لگانا، تب قرآن پاک کی یہ آیت نازل ہوئی: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْآ اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ وَ مِمَّآ اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثاَا مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ (البقرۃ: 267) اے ایمان والو! اپنی پاک کمائیوں میں سے کچھ دو اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا اور خاص ناقص کا ارادہ مت کرو کہ دو تو اس میں سے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3159]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3159 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ليِّن، حاتم بن إسماعيل -وإن كان ثقة في الجملة- تكلَّم ابن المديني في أحاديثه عن جعفر بن محمد -وهو ابن علي بن الحسين الملقَّب بالصادق- فقال: روى عن جعفر عن أبيه أحاديث مراسيل أسندَها، وقال أحمد: زعموا أن حاتمًا كان فيه غفلة. وأما قيس بن أُنيف فقد روى عنه جماعة ولم يؤثر فيه جرح أو تعديل، وقد توبع في جملة ما رواه من الأحاديث، فهو صالح حسن الحديث إن شاء الله.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ’لین‘ (کمزور/نرم) ہے؛ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حاتم بن اسماعیل - اگرچہ مجموعی طور پر ثقہ ہیں - لیکن ابن المدینی نے جعفر بن محمد (جو ابن علی بن الحسین ہیں، جن کا لقب صادق ہے) سے ان کی احادیث پر کلام کیا ہے، اور کہا: انہوں نے جعفر سے، انہوں نے اپنے والد سے مرسل احادیث روایت کی ہیں اور انہیں مسند (متصل) بنا دیا ہے۔ اور احمد نے فرمایا: لوگوں کا خیال ہے کہ حاتم میں غفلت تھی۔ رہا معاملہ قیس بن انیف کا، تو ان سے ایک جماعت نے روایت کی ہے اور ان پر کوئی جرح یا تعدیل منقول نہیں، لیکن ان کی مرویات کے مجموعے میں ان کی متابعت کی گئی ہے، تو ان شاء اللہ وہ صالح اور حسن الحدیث ہیں۔
وأخرجه الواحدي في "أسباب النزول" (172) من طريق محمد بن عبد الله بن نُعيم -وهو الحاكم- بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے واحدی نے "أسباب النزول" (172) میں محمد بن عبداللہ بن نعیم (جو کہ حاکم ہیں) کے طریق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔