المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
59. أولادكم هبة الله لكم
تمہاری اولاد اللہ کی طرف سے تمہیں عطا کی گئی نعمت ہے
حدیث نمبر: 3161
حدثنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب الضَّبِّي ومحمد بن سِنَان قالا: حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا عبَّاد -وهو ابن العوام- عن سفيان بن حسين، عن الزُّهْري، عن أبي أُمامة بن سهل بن حُنَيف، عن أبيه قال: أمر رسول الله ﷺ، بصدقةٍ، فجاء رجلٌ من هذا السُّحَّل -قال سفيان: يعني الشِّيصَ- فقال رسول الله ﷺ:"مَن جاءَ بهذا؟" وكان لا يجيءُ أحدٌ بشيء إِلَّا نُسِبَ إلى الذي جاء به، ونَزَلت: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ﴾ [البقرة: 267] ، ونهى رسول الله ﷺ عن لونَينِ من التمر أن يُؤخَذا في الصدقة: الجُعْرورِ ولونِ الحُبَيق. قال الزُّهْري: واللَّونانِ (2) من تمر المدينة (3) . تابعه سليمان بن كثير عن الزُّهري:
سیدنا سھل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کا حکم دیا تو ایک آدمی یہ ” سحل “ لے آیا، سیدنا سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:” سحل “ ردی قسم کی کھجور کو کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون لایا ہے؟ (اور طریقہ یہی تھا کہ) جو شخص بھی کچھ لاتا، اس کی لائی ہوئی چیز کو اس لانے والے کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی: وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْہِ اِلَّاآ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْہِ (البقرۃ: 267) ” خاص ناقص کا ارادہ مت کرو کہ دو تو اس میں سے اور تمہیں ملے تو نہ لو گے جب تک اس میں چشم پوشی نہ کرو “۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” جعرور “ اور ” صبیق “ دو رنگوں کی کھجوریں صدقہ میں وصول کرنے سے منع فرمایا۔ زہری کہتے ہیں یہ دونوں مدینہ کی کھجوروں کی خاص (گھٹیا) قسم کے رنگ ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث زہری سے روایت کرنے میں سلیمان بن کثیر نے سفیان بن حسین کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3161]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3161 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) حديث صحيح، سفيان بن حسين -وإن كان في روايته عن الزهري كلام- قد توبع. وقد سلف الحديث عند المصنف برقم (1478) من طريق علي بن عبد العزيز عن سعيد بن سليمان.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے؛ سفیان بن حسین - اگرچہ زہری سے ان کی روایت میں کلام ہے - لیکن ان کی متابعت کی گئی ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اور یہ حدیث مصنف کے ہاں نمبر (1478) پر علی بن عبدالعزیز عن سعید بن سلیمان کے طریق سے گزر چکی ہے۔