المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
59. أولادكم هبة الله لكم
تمہاری اولاد اللہ کی طرف سے تمہیں عطا کی گئی نعمت ہے
حدیث نمبر: 3163
[حدَّثَنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي ومحمد بن بن أنس القرشي قالا] (2) : حدثنا أبو عاصم النَّبيل، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثني صالح بن أبي عَرِيب، عن كَثير بن مُرَّة، عن عَوْف بن مالك قال: خرج رسول الله ﷺ ومعه عصًا، فإذا أقْناءٌ معلَّقة، قِنوٌ منها حَشَفٌ، فَطَعَنَ في ذلك القِنْو وقال:"ما يَضُرُّ صاحبَ هذه لو تَصدَّق بأطيبَ من هذه؟ إنَّ صاحب هذه لَيَأكلُ الحَشَفَ يومَ القيامة" ثم قال:"واللهِ لَتَدَعُنَّها مُذلَّلةً أربعين عامًا للعَوَافي" ثم قال:"أتدرونَ ما العَوَافِي؟" قالوا: الله ورسوله أعلمُ، قال:"الطيرُ والسِّباعُ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3126 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3126 - صحيح
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ کے پاس عصا بھی تھا۔ آپ نے مسجد میں کھجوروں کے چند گچھے لٹکتے دیکھے۔ ان میں ایک گچھہ گھٹیا کھجوروں کا تھا، آپ نے اس گچھہ کو چھڑی لگا کر پوچھا: اس کا مالک اگر اس سے اچھا گچھہ دیتا تو اس کو کیا نقصان ہوتا۔ یہ شخص بھی قیامت کے دن اسی طرح کی ردی کھجوریں ہی کھائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خدا کی قسم! وہ اس کو چالیس سال تک ” عوافی “ کے لیے لٹکائے رکھیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ ” عوافی “ کس کو کہتے ہیں؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: درندے اور پرندے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3163]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3163 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده حسن من أجل صالح بن أبي عَريب، وصحَّحه الحافظ ابن حجر في "الفتح" 6/ 228.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صالح بن ابی عریب کی وجہ سے ’حسن‘ ہے، اور حافظ ابن حجر نے "الفتح" 6/ 228 میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
أبو عاصم النبيل: هو الضحاك بن مخلد. وأخرجه ابن حبان (6774) من طريق عمرو بن أبي عاصم النبيل، عن أبيه، بهذا الإسناد.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو عاصم النبیل سے مراد ’الضحاک بن مخلد‘ ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان نے (6774) میں عمرو بن ابی عاصم النبیل کے طریق سے، انہوں نے اپنے والد سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 39/ (23976) و (23998)، وأبو داود (1608)، وابن ماجه (1821)، والنسائي (2284) من طريقين عن عبد الحميد بن جعفر، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد نے 39/ (23976) اور (23998)، ابوداؤد نے (1608)، ابن ماجہ نے (1821)، اور نسائی نے (2284) میں عبدالحمید بن جعفر سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وسيأتي برقم (8515) من طريق أبي قلابة عن أبي عاصم. وقد غَلِط الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" (16052) فجعل الموضعين عند الحاكم بهذا الإسناد الواحد، والصواب أنهما بإسنادين، وفي ألفاظهما بعض التغاير.
🧾 تفصیلِ روایت: اور یہ آگے نمبر (8515) پر ابو قلابہ عن ابی عاصم کے طریق سے آئے گا۔ 📝 نوٹ / توضیح: اور حافظ ابن حجر کو "إتحاف المهرة" (16052) میں غلطی لگی ہے کہ انہوں نے حاکم کے ہاں دونوں مقامات کو ایک ہی سند کے ساتھ قرار دیا، حالانکہ درست یہ ہے کہ یہ دو الگ سندوں کے ساتھ ہیں اور ان کے الفاظ میں بھی کچھ تغیر ہے۔