🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
60. شأن نزول آية ( ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون ) الآية
آیت“اور اس میں سے خراب چیز خرچ کرنے کا قصد نہ کرو”کے نازل ہونے کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3164
أخبرنا أبو أحمد محمد بن أحمد بن إسحاق الصَّفّار العَدْل، حدثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنّاد، حدثنا أسباط بن نصر، عن السُّدّي، عن عَدِيّ بن ثابت عن البَرَاء بن عازب في قول الله ﷿: ﴿وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ قال: نَزَلَت في الأنصار، كانت الأنصارُ تُخرِجُ إذا كان جِدَادُ النخل من حِيطانها أقناءَ البُسْر، فيُعلِّقونه على حدِّ رأس أُسطوانتين في مسجد رسول الله ﷺ، فيأكل منه فقراءُ المهاجرين، فيَعمِدُ أحدُهم فيُدخِلُ قِنوَ الحَشَفِ يُظنُّ أنه جائزٌ في كثرة ما يُوضَعُ من الأقناء، فنَزَل فيمن فعل ذلك: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ يقول: لا تَعمِدوا إلى الحَشَف منه تُنفِقون ﴿وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ﴾ يقول: لو أُهدِيَ لكم لم تَقبَلوه إلَّا على استحياءٍ من صاحبه غَيْظًا أنه بعث إليكم بما لم يكن له فيه حاجةٌ، ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ﴾ عن صَدَقاتِكم ﴿حَمِيدٌ﴾ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3127 - على شرط مسلم
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَمِمَّآ اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْث مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ (البقرۃ: 267) اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا اور خاص ناقص کا ارادہ مت کرو کہ دو تو اس میں سے ۔ کے متعلق فرماتے ہیں: یہ آیت انصار کے متعلق نازل ہوئی (ان کی یہ عادت تھی کہ) جب کھجوروں کی شاخیں دیواروں سے باہر نکلنے لگتیں تو وہ بسر کھجوروں کے گچھے توڑ کر مسجد نبوی کے ستونوں کے ساتھ لٹکا آتے، جہاں سے نادار مہاجرین کھا لیا کرتے، پھر ان میں کوئی آدمی ردی قسم کی کھجوروں کا گچھہ ان میں ڈال آتا اور سمجھتا کہ اتنے کثیر تعداد گچھوں میں اس کے ایک گچھے کا کیا پتا چلے گا، جس شخص نے ایسا عمل کیا تھا۔ اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی: وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْہِ اِلَّا اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْہِ (البقرۃ: 267) خاص ناقص کا ارادہ مت کرو کہ دو تو اس میں سے اور تمہیں ملے تو نہ لو گے جب تک اس میں چشم پوشی نہ کرو ۔ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اگر (اسی طرح کی کھجوریں) تمہیں تحفہ دی جائیں تو تم ان کو قبول نہیں کرو گے، ہاں اس کے دینے والے سے اس بات کا حیاء کرتے ہوئے کہ اس نے تمہیں ایسی چیز بھیجی ہے کہ اس کی اس کو کوئی ضرورت نہ تھی (وہ تحفہ قبول کر لیتے ہو) وَاعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ (عَنْ صَدَقَاتِکُمْ) حَمِیْدٌ اور جان رکھو اللہ بے پرواہ ہے تمہارے صدقات سے وہ حمید ہے، سراہا گیا ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3164]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3164 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن. السدي: هو إسماعيل بن عبد الرحمن.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سدی سے مراد ’اسماعیل بن عبدالرحمن‘ ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (1822) من طريق عمرو بن محمد العنقزي عن أسباط بن نصر، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ نے (1822) میں عمرو بن محمد العنقزی کے طریق سے، انہوں نے اسباط بن نصر سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه الترمذي (2987) من طريق إسرائيل، عن السُّدي، عن أبي مالك الغفاري، عن البراء. وقال: حديث حسن غريب صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی نے (2987) میں اسرائیل کے طریق سے، انہوں نے سدی سے، انہوں نے ابو مالک الغفاری سے، انہوں نے براء رضی اللہ عنہ سے تخریج کیا ہے۔ اور فرمایا: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
البُسْر: التمر قبل أن يُرطِب، والحَشَف: أردأ التمر.
📝 نوٹ / توضیح: "البُسْر": وہ کھجور جو ابھی پکی (رطب) نہ ہو۔ "الحَشَف": ردی ترین کھجور۔